بین الاقوامیقومی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 16واں روز

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بے بسی کی تصویر۔ گھروں میں قید ہوئے 16 روز ہو گئے۔ دودھ کے لیے بلکتے بچے، دوا کے لیے ترستے بیمار عالمی برادری کی توجہ کے طالب۔ دنیا نے آنکھیں پھیر لیں۔ بھارتی نوبیل انعام یافتہ اکانومسٹ امرتیا سین اپنی سرکار پر برس پڑے۔ بولے مسٔلہ کشمیر کا حل جمہوریت کے سوا کچھ نہیں۔

مقبوضہ وادی میں 5 اگست کو لگائے گئے کرفیو کو آج 16 روز ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی نشریات روزانہ کی بنیاد پر بند ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنماؤں کو بھی گھروں یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرفیوکے باوجود بھی سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے۔ جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا کی تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے کچھ خاص علاقوں میں سکول کھلنے کے باوجود خالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بھی بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب نوبل انعام یافتہ بھارتی ماہرمعاشیات ڈاکٹر امرتیا سین نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق فیصلے سے بھارت نے خود اپنی ساکھ گنوا دی ہے۔ بولے کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اوران کا موقف بالکل درست ہے۔ کشمیری قیادت کو گرفتاراور نظربند کرنے کی میں شدید مذمت کرتا ہوں۔ جمہوریت ہی مسٔلہ کشمیر کا حل ہے۔

مزید بولے کہ بھارت کے ساتھ ملنے کا فیصلہ جموں و کشمیر کی عوام کو کرنا چاہیے تھا۔ یہ کشمیریوں کی زمین ہے۔ ھارتی شہری ہونے کے ناطے مقبوضہ کشمیر سے متعلق حکومتی فیصلے پر بالکل فخر نہیں۔ بھارت اپنے ہی فیصلوں سے دنیا میں مقبولیت کھو رہا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers