بین الاقوامیقومی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم عمران خان کو ٹیلی فون

مقبوضہ کشمیر میں مودی کی لگائی آگ بجھانے کے لیے صدر ٹرمپ متحرک۔ صدر ٹرمپ کا وزیراعظم عمران خان کو 72 گھنٹوں میں دوسرا فون۔ بھارتی وزیراعظم سے بھی بات کی۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دو اچھے دوستوں سے بات ہوئی صورتحال مشکل ہے مگر گفتگو مثبت رہی۔

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کی شب ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں کشمیر تنازع کی وجہ سے پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی پر بات چیت ہوئی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ بھارت کے اس ایک طرفہ فیصلے کا اصل مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی 16 اگست کو امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپریکی صدر کو بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کرنے کا کہا تھا۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ بروز پیر مورخہ 19 اگست کو امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم سے گفتگو کی اور خطے میں کشیدگی پر تشویش سے آگاہ کیا۔ امریکی صدر نے نریندر مودی کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کو ہر صورت مقدم رکھنے کی بات کی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان اور نریندر مودی سے کشمیر پر بات چیت ہوئی ہے۔ کہا کہ بھارت اورپاکستان سے کشمیرمیں تناؤ میں کمی کے لیے بات کی ہے۔ خطے میں بہت کشیدہ صورت حال ہے۔ لیکن بات چیت مثبت رہی۔ امریکی صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ تجارت اوراسٹرٹیجک معاملات پربھی گفتگو ہوئی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 22 جولائی کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت کے مابین ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ اس کے بعد بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers