بین الاقوامی

ڈونلڈ ٹرمپ نے مسٔلہ کشمیر پر پھر سے ثالثی کی پیشکش کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسٔلہ کشمیر پر ایک بار پھر سے ثالثی کی پیشکش کر دی۔ کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور ہندو مسلم مسٔلہ قرار دے کر بانی پاکستان کے دو قومی نظریے کو بھی تسلیم کر لیا۔ پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ کشمیر کے مسلمان بھارت کے بجائے کسی اور کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھاری توپ خانے کا استعمال ہوتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر نریندر مودی سے بات کرنے کا اعلان کیا ہے.

وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اعتراف کر لیا کہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کا جینا محال ہے۔ مذہبی بنیادوں پر جاری قتل عام پر امریکی صدرنے بھی بھارت میں انتہا پسندی کے پاکستانی مؤقف کو بھی تسلیم کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مذہبی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر انتہائی پیچیدہ اور عشروں پرانا مسئلہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ مذہب ہے اور مذہبی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ کشمیر میں بسے لاکھوں افراد کسی دوسرے کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ وہاں ہندو اور مسلمان رہتے ہیں جن کی آپس میں نہیں بنتی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی میرے بس میں ہوا کرونگا۔ انہوں نے مقبوضہ وادی کی صورتحال کو دھماکا خیزقرار دیدیا۔ بولے کہ ہفتے کو فرانس میں مودی سے ملاقات میں کشمیر کا معاملہ اٹھاؤنگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے مزید کہا کہ سچ پوچھیں تو کشمیر میں صورت حال بہت زیادہ کشیدہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی آپس میں ایک طویل عرصے سے نہیں بن رہی۔ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائیاں ہو چکی ہیں اور وہ بھی کوئی ہلکی پھلکی لڑائی نہیں بلکہ بھاری اسلحہ استعمال ہوتا آیا ہے۔

بولے کہ میری عمران خان اور نریندر مودی دونوں سے بات ہوئی ہے۔ میرے دونوں رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ان کی آپس میں دوستی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کی بڑی وجہ مذہب ہے اور مذہبی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ آئندہ ہفتے بھارتی وزیراعظم سے مسئلہ کشمیرپربات کروں گا۔ بھرپورکوشش کروں گا کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی ہوجائے۔

کچھ دن پہلے امریکی صدر سے وزیراعظم عمران خان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں عمران خان نے ڈٔونلڈ ٹرمپ کو مسٔلہ کشمیر پر اعتماد میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی صدر کو بھارتی عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر میں نسل کشی کی کوشش کر رہا ہے۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ بعد میں بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کر دیا اور وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers