بین الاقوامیقومی

کشمیر میں آج احتجاجی مظاہرے، قتل و غارت کا امکان

کشمیری اپنی جنت بچانے کے لیے کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے۔ حریت رہنماؤں کی کال پر احتجاج، سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ۔ خوفزدہ قابض فوج نے راستے سیل کر کے مساجد کو تالے لگا دیے۔

مقبوضہ وادی میں20 دن سے سڑکیں سنسان، علاقے ویران، بازار، دفاتر، سکولز بند اور اس کے علاوہ رابطے معطل۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور بھارتی فوج کی جانب سے لگائے جانے والے کرفیو کے خلاف پُرزور احتجاج کیا ہو گا۔ وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے جبکہ سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر تک بھی مارچ کیا جائے گا۔

جبکہ دوسری جانب ظالم بھارتی افواج کا کرفیو تیسرے ان تک برقرار ہے اور حریت رہنماؤں کی جانب سے مظاہرے کی کال دیئے جانے کے بعد ڈرپوک بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاون کی تیاری کر لی ہے۔ سری نگر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی گرفتاریوں کے لیے گھروں میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔

کشمیر کی اس موجودہ صورتحال پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آج کوئی نیا ڈرامہ رچانے جا رہا ہے۔ کشمیری لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکليں گے بھارتي ميڈيا نے پراپيگنڈہ شروع کرديا ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ نئی شازش رچانے کیلئے بھارت کہے گا کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ کشمير ميں داخل ہوئے ہیں۔ بھارت کو خطرہ ہے کہ لوگ نکلیں گے تو وادی ميں خون خرابہ ہوسکتا ہے۔ اور اسی خون خرابے سے توجہ ہٹانے کيلئے بھارت پاکستان پہ الزام لگا سکتا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 20ویں روز بھی کرفیو قائم ہے اور مواصلات کا نظام مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔

زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ مقبوضہ وادی میں اس وقت قحط اور قہر کا عالم برپا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ تحا جس کے باعث مسلمان نماز عید اور سنت ابراہیمی تک ادا کرنے سے محروم تھے۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers