بین الاقوامی

وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے درمیان رابطہ طے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آج اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے رابطہ کریں گے۔

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مابین رابطہ طے پا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان آج شب پانچ بجے ٹیلی فونک رابطہ ہو گا۔

شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے گفتگو کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ظلم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور امن و امان کی سنگین صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریز ان دنوں فرانس کے دورے پر ہیں۔ جہاں دو دن پہلے ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سرکاری دورے پر تھے۔

ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے  رابطے میں درخواست کریں گے کہ وہ بھارت پہ سفارتی دباؤ میں اضافہ کریں۔ تا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ شاہ محمود قریشی نے 3 اگست کو اقوام متحدہ کو خط لکھ کر مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام کے خدشے سے آگاہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ شاہ محمود قریشی نے 14 اگست کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو بھی خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والی صورتحال کے پیش نظراجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد 16 اگست کو سلامتی کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔

گزشتہ روز بھی کشمیر کی اس موجودہ صورتحال پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت آج کوئی نیا ڈرامہ رچانے جا رہا ہے۔ کشمیری لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکليں گے بھارتي ميڈيا نے پراپيگنڈہ شروع کرديا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ نئی شازش رچانے کیلئے بھارت کہے گا کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ کشمير ميں داخل ہوئے ہیں۔ بھارت کو خطرہ ہے کہ لوگ نکلیں گے تو وادی ميں خون خرابہ ہوسکتا ہے۔ اور اسی خون خرابے سے توجہ ہٹانے کيلئے بھارت پاکستان پہ الزام لگا سکتا ہے۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers