بین الاقوامی

بھارتی رویہ خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔ اسد مجید

امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کہتے ہیں کہ بھارتی رویے سے پیدا ہونے والے حالات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت نے 90 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے۔ ہمیں سب سے زیادہ تشویش وادی میں انسانی بحران کا ہے۔

امریکہ کے شہر واشنگٹن میں بلرن پارک میں یوم آزادی پاکستان فیسٹول کی تقریب ہوئی۔ جس میں بڑی تعداد میں امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے شرکت کی۔ شرکا نے بھارتی مظالم کا سامنا کرنے والے کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کی۔

تقریب میں امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گئے۔ دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال پر مرکوز کرائی کیونکہ ہمیں سب سے زیادہ تشویش کشمیر میں انسانی بحران پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکی صورت حال ایک سنگین انسانی المیے میں بدلتی جا رہی ہے۔ بھارتی رویے سے پیدا ہونے والے حالات خطے میں امن اور سیکورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔

مودی سرکار نے 90 لاکھ کشمیریوں کو وہاں قید کر رکھا ہے دنیا بھر میں عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی نے کشمیر کی پیچیدہ اور نازک صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مسلسل 3 بار مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ وادی میں مسلسل تین ہفتوں سے لاک ڈاون چل رہا ہے اور بھارت کے اس رویے کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ عالمی اداروں اور تنظیموں کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں بھیجا جائے۔ اس کے علاوہ بھارت کو اپنا یہ اقدام واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ ہفتے ڈاکٹر اسد مجید خان نے امریکہ کے پالیسی بنانے والے اداروں کو کشمیر کی پیچیدہ صورت حال پر بریفنگ دی تھی۔ پاکستانی سفیر نے امریکی نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف سے بھی آگاہ کیا تھا۔

مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام قابض بھارت کے ظلم وستم کا شکار ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے عالمی قوتوں، اداروں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers