قومی

وزیراعظم پاکستان کا مسٔلہ کشمیر پر قوم سے خطاب

مسٔلہ کشمیر کے والے سے قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے فیصلہ کن وقت آ گیا ہے۔ نریندر مودی نے تکبر میں آ کر بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ اب کشمیریوں کو آزادی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب ان کی حکومت آئی تو انہوں نے ملک میں امن قائم کرنے اور تجارت بڑھانے اور بیروزگاری کے خاتمے پہ زور دیا۔ اس مقصد کے لیے سیاسی تصفیہ کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان سے مذاکرات پہ زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں بھارت نے جب مذاکرات کا مثبت جواب نہ دیا تو سوچا کہ وہ شائد الیکشن کیمپین کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔ لیکن الیکشن کے بعد ایف۔اے۔ ٹی۔ ایف میں بھارت کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش پر ہمیں عندیہ ہو گیا کہ اب مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے واقعے پر پاکستان نے بھارت کو تحقیقات کرنے کی پیشکش کی مگر بجائے واقعے کی وجہ جاننے کے بھارت نے الٹا الزام پاکستان پر لگایا۔

آر۔ایس۔ایس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آر۔ایس۔ایس ایک فاشسٹ آئیڈیالوجی کے تحت کام کر رہی ہے۔ ہٹلر اور نیپولئین جیسے فاشسٹ لوگ اس تنظیم کے آئیڈیل ہیں۔ اسی سوچ کے باعث گاندھی کی موت ہوئی۔ آر۔ایس۔ایس کا مقصد ہندوستان میں مسلمانوں سے اپنی ہزاروں سال پرانی غلامی کا بدلہ لینا ہے۔

آر۔ایس۔ایس نے بھارت کے سیکولر ہونے کے اسٹیٹس کو مسترد اور ختم کر دیا ہے۔ ان کا مقصد اقلیتوں کو ختم کر کے ہندوستان میں ہندوؤں کو پہلے شہری کا درجہ دینا ہے۔ آر۔ایس۔ایس کو کئی باردہشتگرد جماعت قرار دیا گیا ہے۔ ایک زمانے میں مودی بھی اسی کا حصہ رہ چکے ہیں۔ آر ایس ایس کے دہشتگردوں نے ہی بابری مسجد اور کرسچنز کے چرچز پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا اصل مقصد کشمیریوں کو اتنا دبانا تھا کہ وہ دوبارہ آواز نہ اٹھا سکیں اور عالمی برادری ہمیشہ کے لیے خاموش رہے۔ ہمیں خبر تھی کہ بھارت آزاد کشمیر میں پھر سے بالاکوٹ جیسا کوئی واقع کرے گا اور اس کے بعد پاکستان پر الزام تراشی کرے گا کہ آزاد کشمیر سے بھارت میں دہشتگرد آ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹ جائے گی۔ مگر بروقت خبر ملنے سے پاکستان نے تیاری کر لی ہے۔ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب تک ہمیں دو کامیابیاں ملی ہیں۔ ایک یہ کہ 5 اگست کے بعد ہم نے فوری طور پر دوسرے ممالک کے سفارت خانوں اور لیڈران سے رابطہ کر کے ان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔ دوسرا اقوام متحدہ سے رابطہ کر کے 50 سال بعد مسٔلہ کشمیر پر توجہ دلا کر اس ایشو کو عالمی بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہر سطح پر کشمیرکے ایشو کو اٹھایا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مغربی میڈیا نے پہلے بھارت کو کبھی اتنا تنقید کا نشانہ نہیں بنایا تھا جتنا کہ اب بنا رہا ہے۔ اگلے ماہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھرپور طریقے سے مسٔلہ کشمیر کو میں اجاگر کروں گا اور دیگر لیڈران سے بھی ملاقاتیں کروں گا۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ کوئی ساتھ دے نہ دے ہم کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ آخری سانس تک ان کے لیے لڑیں گے۔ ہر ہفتے میں ایک دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منائیں گے ۔ اگر جنگ ہوئی تو دنیا یاد رکھے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں۔ اگر جنگ ہوئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق مسٔلہ کشمیر حل کر کے اپنے وعدے پورے کرے۔ مودی نے تکبر میں آ کر یہ اقدام لیا ہے اور بہت بڑی غلطے کر دی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ ہو۔ اب کشمیریوں کو آزادی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers