بین الاقوامی

ڈونلڈ ٹرمپ آج فرانس میں نریندر مودی سے ملاقات کریں گے

امریکی صدر مسٔلہ کشمیر پر کیا کر رہے ہیں؟ دنیا منتظر۔ صدر ٹرمپ اور نریندر مودی کی ملاقات آج فرانس میں ہو گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کی صورتحال کو پہلے ہی خطرناک قرار دے چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی صدر آج نریندر مودی سے فرانس میں ہونے والی ملاقات میں مسٔلہ کشمیر کا مدعا اٹھائیں گے۔ چند روز قبل بھی وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کا موقف غلط ہے فرانس میں مودی سے ملاقات کے دوران کشمیر پر خصوصی بات کروں گا۔

بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، لاک ڈاؤن، بلا جواز گرفتاریوں اورذرائع ابلاغ کے بلیک آؤٹ پر بات کریں گے اور بھارتی وزیراعظم سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں کمی کے لئے کے اقدامات پر بھی بات چیت ہوگی۔ امریکی صدر یہ جانیں گے کہ نریندر مودی کے پاس کشیدگی ختم کرنے کے لیے کیا منصوبہ ہے۔

فرانس کے شہربیارٹرزمیں جی سیون کے سربراہان کا اجلاس ہو رہا ہے۔ جس میں شرکت کے لیے نریندر مودی کچھ دن پہلے ہی فرانس تشریف لے گئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کے دورے کے دوران پیرس میں پاکستانی کمیونٹی سمیت ہزاروں مقامی افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایفل ٹاور پر ہونے والے اس احتجاج میں لوگوں نے بھارت دہشت گرد اور انتہا پسند ملک کے نعرے بھی لگائے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکی صدر کئی بار براہ راست مسٔلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے امریکی صدر سے وزیراعظم عمران خان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں عمران خان نے ڈٔونلڈ ٹرمپ کو مسٔلہ کشمیر پر اعتماد میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی صدر کو بھارتی عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر میں نسل کشی کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کا جینا محال ہے۔ مذہبی بنیادوں پر جاری قتل عام پر امریکی صدرنے بھی بھارت میں انتہا پسندی کے پاکستانی مؤقف کو بھی تسلیم کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مذہبی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر انتہائی پیچیدہ اور عشروں پرانا مسئلہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ مذہب ہے اور مذہبی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ کشمیر میں بسے لاکھوں افراد کسی دوسرے کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ وہاں ہندو اور مسلمان رہتے ہیں جن کی آپس میں نہیں بنتی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers