بلاگ

مسٔلہ کشمیر اور بین الااقوامی پس منظر

بھارت نے مسٔلہ کشمیر کے حوالے سے آرٹیکل 370 اپنے آئین سے ختم کر کے خطے میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس سفاک اقدام سے بھارت نے نہ صرف کشمیریوں کے حق پہ ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی ہے بلکہ اس خطے کے امن و امان کو بھی داو پہ لگا دیا ہے۔ کشمیر میں اس وقت حالات کچھ یوں ہیں کہ ہر طرف قہر کا عالم برپا ہے۔

24 دنوں سے بھارتی فوج وہاں سخت کرفیو لگائے بیٹھی ہے جس کے باعث لوگوں کے گھروں میں خوردونوش کی اشیاء ختم ہو گئیں ہیں، بچے بھوک سے بلک رہے ہیں، بیمار دوا نہ ملنے کے باعث تڑپ رہے ہیں، آزادی کا جزبہ لیے پچھلے 24 دنوں میں اب تک سیکڑوں جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا ہے جبکہ کئی لاپتہ ہیں۔ اور ہمیشہ کی طرح انسانی حقوق کا پرچار کرنے والی بین الااقوامی تنظیمیں غفلت کی نیند سو رہی ہیں۔

بین الااقوامی طاقتوں کا جھکاؤ:

اس سب کے علاوہ جنگی جنوں میں مبتلا ہو کر بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل سرےعام خلاف ورزی کر کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے اس سفاکانہ اقدام کو مسترد کر کے یہ معاملہ بھرپور طریقے سے عالمی سطح پر اٹھایا ہے۔ مگر سوال اب یہ ہے کہ تمام بیرونی طاقتیں اس وقت کس کے ساتھ کھڑی ہیں؟

امریکہ:

امریکہ کی بات کی جائے تو پاکستان اس وقت امریکہ کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ طالبان سے مار کھایا ہوا امریکہ اس وقت افغانستان سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے اور افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ثالثی اور امن کی ایک بہت بڑی کڑی پاکستان ہے۔ اس لیے چاہتے نہ چاہتے امریکہ کو اپنا پلڑا پاکستان کے حق میں ڈالنا ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسٔلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے میں کافی متحرک نظر آ رہے ہیں ۔ حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر جاری قتل عام پر امریکی صدرنے بھی بھارت میں انتہا پسندی کے پاکستانی مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔

چائنہ:

جبکہ دوسری جانب چائنہ نے بھی سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کی ہے۔ مسٔلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقبل مندوب نے میڈیا بریفنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے مطابق مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئیے۔ چین کے مندوب نے مزید کہا کہ چین کو اس حوالے سے شدید تحفظات تھے اور دونوں اطراف کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چین کی حمایت سے سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بھارت کے یکطرفہ مؤقف کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اس کی نفی کر دی گئی ہے۔

روس:

بھارت کے پرانے دیرینہ ساتھی روس نے بھی اجلاس سے پہلے اس سے آنکھیں پھیر لیں اور روس نے بہترین ڈپلومیسی کی پالیسی اپناتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسٔلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جو کہ میز پر بیٹھ کر ہی حل ہونا چاہیے۔ اور اقوام متحدہ میں مسٔلہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کو ویٹو کرنے سے انکار کر دیا۔ تو ایسے میں اگر کہا جائے کہ تین بڑی طاقتوں ( امریکہ، چین اور روس) نے اپنا پلڑا وقتی طور پر پاکستان کے حق میں ڈالا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔

بیرونی طاقتوں کا مفاد:

پاکستان نے اپنی بہترین اور مؤثر سفارتکاری سے بھارت پہ دباؤ تو ڈالا ہے مگر امریکہ، چائنہ اور روس جیسی بڑی طاقتوں کو مسٔلہ کشمیر پر ایک صفحے پر رکھنا بھی اس کے لیے ایک بڑا چیلینج ہو گا۔ کثیرالجہتی کی پالیسی اپناتے ہوئے پاکستان نے چند بڑی طاقتوں کو اپنے ساتھ تو ملا لیا لیکن ان حمایتوں کے پیچھے کہیں نہ نہیں کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد ضرور ہے اور اس کے لیے پاکستان کو کیا قیمت ادا کرنی ہو گی یہ تو آنے والے وقت میں سب عیاں ہو گا۔ لیکن لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپیں اور دن بدن بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ جو کہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جنگیں جنون اور جذبے سے لڑی جاتی ہیں مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو حالت جنگ میں جو موثٔر منصوبہ بندی اور حکمت عملی اپنائے مشکل وقت میں اپنے اعصاب پہ قابو پائے رکھتا ہے اپنے مخالف پہ سبقت لے جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں نیوکلیٔر جنگ ان کے ساتھیوں اور ہمسایوں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو گی جنہوں نے ان ممالک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ البتہ ہمیشہ کی طرح دونوں ممالک میں صرف جنگ کا خوف اور خطرہ رہے تو اس کا فائدہ دنیا کے بڑے ہتھیاروں کے سپلائرز روس، امریکہ، چائنہ، فرانس اور جرمن کو ہو گا جن سے دونوں ممالک سالانہ اربوں کی مالیت میں اسلحہ خریدتے ہیں۔

مسلم ممالک کا کردار:

فلسطین اور شام کی طرح مسلم مالک نے بھی مسٔلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس مؤقف نہیں اپنایا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت میں کی جانے والی عرب ممالک کی اربوں ڈالرز کی سرمایکاری اور تجارت ہے اس کے علاوہ عرب ممالک میں بسنے والے لاکھوں کی تعداد میں بھارتی ہندو ہیں جو کہ مزدوری، ٹیچنگ، انجینیٔرنگ اور ڈاکٹری جیسے شعبوں سے وابستہ عرب ممالک کو اپنی سروسز مہیا کر رہے ہیں۔

معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو بھارت پاکستان کے مقابلے میں کافی مضبوط نظر آتا ہے۔ اس لیے عملی نقطہ نظر سے عرب ممالک نے مسٔلہ کشمیر پر کوئی ٹھوس مؤقف نہیں اپنایہ۔ زرائع کے مطابق سال 2018-2017 میں بھارت کے ساتھ یو-اے-ای نے 49 ارب ڈالرز سعودی عرب نے 26، قطر نے 15، عراق نے 15 اور کویت نے 14 ارب ڈالرز کی صرف تجارت کی ہے ۔ ایسے میں بھارت سے منہ پھیرنا ان ممالک کے لیے معاشی طور پر بھاری نقصان ثابت ہو گا۔ صرف سعودی اور یو-اے-ای نے دونوں ملکوں کو آپس میں بات چیت سے مسٔلہ حل کرنے کا کہا جبکہ کویت قطر اور بحرین نے کشمیریوں کی دل جوئی کے لیے کوئی بیان تک دینے کی زحمت گنوارہ نہیں کی۔

او-آئی-سی نے بھی چند رپورٹس کو مدنظر رکھ کر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے حالات پہ صرف تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس آڑے وقت میں مسلم مالک کی صف میں سے صرف ترکی پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا ہے۔

ممکنہ صورتحال:

دوسری جانب اگر مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو رہا تو کشمیریوں کی جانب سے بھارت کو یکدم مزاحمت پیش آئے گی۔ اس کے علاوہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار 27 فروری جیسا پھر سے کوئی مس ایڈونچر کرنے پر مجبور ہو گی جس سے وہ سارا دباؤ پاکستان کی جانب منتقل کر سکے۔ اگر مودی سرکار نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے ہفتے اس خطے پر بھاری پڑ سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جنگ کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers