بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 24 دن گزر گئے

مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کا 24واں روز۔ مارکٹیں بند، سکول بند، انٹرنیٹ بند، فون بند، خوراک اور ادویات کا بحران۔ عالمی میڈیا کو حقائق بتانے پر کشمیری ڈاکٹربھی گرفتار۔ اموات چھپانے کے لیے ہسپتالوں نے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دینا بند کر دیے۔

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ظلم و بربریت جاری ہے۔ مقبوضہ وادی کو کرفیو لگا کر جیل بنائے ہوئے آج 24 دن ہو گئے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں ذرائع ابلاغ کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور فون سروس مکمل طور پر بند ہے ۔

چپے چپے پہ قابض بھارتی فوج کا پہرہ ہے۔ دکانیں، مارکٹیں بند، ہر جگہ شٹر ڈاؤن ہے۔ لوگوں کی جانب سے گھروں میں ذخیرہ اندوز کیا ہوا سامان مکمل طور ختم ہونے کو آ گیا ہے۔ بچوں کے پینے کے لیے دودھ نہیں ہے۔ وہ بھوک سے بلک رہے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب بیمار بزرگوں کے لیے کوئی دوائی میسر نہیں۔ وہ بیماری کے مارے گھروں میں تڑپ رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں کو ظالم فوج پیلٹ گن اور دیگر بندوقوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اب تک سیکڑوں کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اور تو اور بھارتی انتظامیہ اموات کی تعداد چھپانے کے لیے ہسپتالوں میں ڈیتھ سرٹیفیکیٹس تک نہیں دے رہی۔

سیاسی رہنما اب تک گھروں میں محصور ہیں۔ اور قابض فوج کی جانب سے خواتین کی بے حرمتی اور چادر اورچار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ ٹی وی چینلز اور اخباروں کی اشاعت بدستور بند ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔ اس سفاکانہ اقدام پہ دنیا بھر کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers