بین الاقوامی

صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ماریہ اسپونوزا سے ملیحہ لودھی کی ملاقات

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی عالمی سطح پر مسٔلہ کشمیر اجاگر کرنے میں سرگرم۔ صدر جنرل اسمبلی ماریہ اسپونوزا سے ملاقات کی۔ کہا کہ غاصبانہ تسلط نے کشمیریوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔ امریکی کانگریس رکن الہان عمر نے بھی مقبوضہ وادی کے مکینوں کے لیے آواز بلند کر دی۔

اقوام متحدہ میں تعینات مستقل پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ اسپونوزا سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا۔

ملیحہ لودھی نے صدر ماریہ سے کہا کہ غاصبانہ تسلط نے مقبوضہ کشمیر کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ بھارت نے تین ہفتے سے زائد عرصے سے کشمیریوں کی تمام آزادیاں سلب کر رکھی ہیں۔

کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ پر تاریخی ذمہ داریاں ہیں جو اسے نبھانی چاہئے۔ عالمی برادری کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے کردار ادا کرے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ اپنے حالیہ انٹرویوز میں ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت طاقت سے کشمیری عوام کو زیرتسلط نہیں رکھ سکے گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری میں ماحول تبدیل ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے مغرب میں لوگوں کی رائے بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے کیونکہ وہاں کے عوام چاہتے ہیں کہ بھارت وہاں سے نکل جائے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ مسٔلہ کشمیر پر 16 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دینے کو اندرونی معاملہ قرار دینے کے مؤقف کی نفی کر دی گئی تھی۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔ اس سفاکانہ اقدام پہ دنیا بھر کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers