قومی

رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 7 ستمبر تک توسیع

رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس سننے والے جج کا اچانک تبادلہ۔ واٹس ایپ پر نوٹس ملتے ہی جج مسعود ارشد نے سماعت سے معذرت کر لی۔ رانا ثناءاللہ کے وکیل کی جج سے تلخ کلامی ۔ لیگی رہنماء کے جوڈیشل ریمانڈ میں 7 ستمبر تک توسیع۔

لاہور کی منشیات عدالت میں لیگی رہنماء رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ رانا ثناءاللہ کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ حکومت کے وزیر نے منشیات برآمدگی کی ویڈیو کی موجودگی کا دعوی کیا لیکن موٹروے ٹول پلازہ کی ویڈیو دے دی گئی۔ مؤکل پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

لیگی رہنماء کے وکیل نے مزید کہا کہ اے این ایف کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ مقدمہ جھوٹا ہے۔ اس لیے ضمانت منظور کی جائے۔ اسی دوران عدالت میں جج ارشد مسعود نے بتایا کہ انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے واٹس ایپ پر میسج ملا ہے اور ان کا تبادلہ ہو گیا اب میں کیس کی کارروائی نہیں کر سکتا اور اس بناء پر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

اس پر ملزم کے وکلا نے کیس کی سماعت نہ کرنے پر جج سے بحث شروع کردی۔ رانا ثناء اللہ کے وکلاء نے کہا کہ واٹس ایپ پر آنے والے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں یہ انصاف کا قتل ہے۔

جج نے اس پر ریمارکس دیے کہ میرے لئے تمام مقدمات ایک جیسے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے عدالت نے رانا ثناء اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 07ستمبر تک توسیع کردی۔

پیشی کی موقع پر عدالتی احطے میں سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ رانا ژنایاللہ نے کہا کہ حکومت اپنی مرضی کے فیصلے چاہتی ہے۔ آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ نواز شریف کے ساتھ رہوں گا۔

دوسری جانب وزارت قانون کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز کے مقدمات کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئی ہیں۔ مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف جج نعیم ارشد سماعت کر رہے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers