قومی

مسٔلہ کشمیر بھارت کا اندرونی نہیں بلکہ عالمی معاملہ ہے۔ دفتر خارجہ

پاکستان کا مسٔلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کا مطالبہ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا ہے۔ اتنے لوگ گرفتار ہیں کہ جیلوں میں جگہ نہیں رہی۔ مسٔلہ کشمیر عالمی عدالت میں لے جانے پر غور کر رہے ہیں۔ بھارت کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

ترجمان ڈاکٹر فیصل نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو مسلسل 25 ویں روز بھی جاری ہے۔ وادی کو چھاؤنی بنا دیا گیا ہے۔ چپے چپے پہ فوجی تعینات ہیں۔ وادی میں انسانی بحران ہے۔ جیلوں میں اتنے لوگ ڈالے جا رہے ہیں کہ جگہ کم پڑ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی تنازعہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ خواہش ہے کہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ حل ہو۔

بولے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسلسل پچھلے 25 روز سے باقی دنیا سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔ عوام کرفیو کے باوجود سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے۔ پچھلے روز بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو سیز فائر کی خلاف ورزی پر طلب کیا گیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی شہریوں اور سول آبادی کو نشانہ بنارہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو اس حوالے سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ بھارت کیلئے پاکستان کی فضائی حدودبند کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی دو طرفہ تعلقات سے پیچھے نہیں ہٹا۔ ہمیشہ بھارت نے ہی راہ فرار اختیار کی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت جو مرضی کہتا رہے وہ حقیقت نہیں بدل سکتا۔ کشمیر کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے پر مشاورت جاری ہے۔ ابھی اس پر ختمی فیصلہ نہیں ہوا۔

بھارت نے جو قدم اٹھا لیا ہے اس کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر پھنسا ہوا ہے۔ خطے کی صورتحال اور کشمیریوں کے جذبات کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کو بھی خط لکھا ہے۔ کرفیو کے باعث محصور کشمیریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

وزارت خارجہ نے ویب سائٹ پر کشمیر سے متعلق خصوصی سیکشن قائم کیا ہے جہاں کشمیر کے حوالے سے تمام اپ ڈیٹس دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ میں بھی مقبوضہ کشمیر سے متعلق خصوصی ڈیسک قائم کردیا گیا ہے۔

افغان امن کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا قیام اوراستحکام چاہتا ہے۔ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان نے سجیدہ کوششیں کی ہیں۔ امریکا اور طالبان کے درمیان امن عمل حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers