قومی

وزیراعظم عمران خان کی پوری قوم سے کل باہر نکلنے کی اپیل

کشمیر بنے گا پاکستان، کل ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیرریلیاں نکالی جائیں گی۔ دن بارہ بجے سائرن بجائے جائیں گے۔ ٹریفک سگنلز ریڈ رہیں گے۔ قومی ترانے کے ساتھ کشمیر کا ترانہ بجایا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کی کل شہریوں سے نکلنے کی اپیل۔ کہا کہ کل 12 سے ساڑھے 12 بجے کشمیریوں کے لیے باہر نکلیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کل تمام پاکستانی 12 سے ساڑھے 12 بجے تک باہر نکلیں اور مقبوضہ کشمیرکےعوام کو واضح پیغام دیں کہ بھارت کے فاشسٹ قبضے اور کرفیو کیخلاف پوری قوم کشمیریوں کی ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت بھارتی اقدامات جرم ہیں۔ بھارت کشمیر کی ڈیموگرافی بدلنا چاہتا ہے۔مودی کشمیریوں کی نسلی کشی اورغیرقانونی الحاق کی خواہش رکھتا ہے۔
ہم نے کشمیریوں کو ٹھوس پیغام بجھوانا ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہم پوری قوت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑَے ہیں۔

کل ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیرریلیاں نکالی جائیں گی۔ دن بارہ بجے سائرن بجائے جائیں گے۔ ٹریفک سگنلز ریڈ رہیں گے۔ قومی ترانے کے ساتھ کشمیر کا ترانہ بجایا جائے گا۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا مرکزی اجتماع ڈی چوک میں ہوگا۔ ملک بھر کے تمام اضلاع میں مخصوص مقامات پر احتجاج کیا جائے گا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔ اس سفاکانہ اقدام پہ دنیا بھر کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس کے بعد سے مقبوضہ وادی پہ کرفیو لگا کہ اسے جیل بنا دیا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں۔ بچے دودھ کے لیے بلک اور بیمار دوائیوں کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ سیکڑوں احتجاج کرنے والے لوگوں کو اب تک قابض فوج کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی جیلوں میں قید اور کئی لاپتہ ہیں۔ زرائع ابلاغ کا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر، مارکٹیں، دکانوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers