بین الاقوامی

غیر ملکی صحافیوں کا لائن آف کنٹرول کا دورہ

پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کا لائن آف کنٹرول کا دورہ۔ بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور موجودہ حالات پر بریفنگ دی گئی۔ صحافیوں نے آزادانہ طور پر شہریوں سے گفتگو کی۔ آئی۔ایس۔پی۔آر نے مقبوضہ کشمیر میں بدترین صورتحال اور مظالم سے آگاہ کیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹوئیٹر پر اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا کہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے ایک گروپ کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا گیا۔ جہاں میڈیا نمائندوں کولائن آف کنٹرول کی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کولائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

اس دورے کے دوران ان کو بھارتی فوج کی جانب سے نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ غیر ملکی صحافیوں نے لائن آف کنٹرول کے قرب مقیم پاکستانی شہریوں سے کھلم کھلا آزادانہ طور پر بات چیت بھی کی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے برعکس بھارتی مظالم چھپانے کیلئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون اور کرفیو ہے۔ مقبوضہ وادی میں اب بھی ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے جو کہ اب دنیا کے سامنے کھل کر آ گیا ہے۔

میجر جنرل غفور نے ویڈیو کلپس اور تصاویر بھی شیئر کیں جن میں غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ مل رہی ہے اور مقامی رہائشیوں کا انٹرویو لیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایک پاکستانی صحافی نے ٹویٹ میں بھی کہا کہ کنٹرول لائن کی صورتحال کو سمجھا، جہاں پاکستانی اور ہندوستانی فوجی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر کھٹرے ہیں۔ ہم ایک ایسی جگہ کے قریب گئے جہاں سے دوربین استعمال کیے بغیر ہندوستانی چوکیوں کو دیکھا جا سکتا تھا۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرانے پر آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کا شکری ادا بھی کیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔ اس سفاکانہ اقدام پہ دنیا بھر کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس کے بعد سے مقبوضہ وادی پہ کرفیو لگا کہ اسے جیل بنا دیا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں۔ بچے دودھ کے لیے بلک اور بیمار دوائیوں کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ سیکڑوں احتجاج کرنے والے لوگوں کو اب تک قابض فوج کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی جیلوں میں قید اور کئی لاپتہ ہیں۔ زرائع ابلاغ کا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر، مارکٹیں، دکانوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers