بین الاقوامی

وزیر خارجہ کا سعودی اور جنوبی کوریا کے ہم منصبوں سے رابطہ

پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ۔ شاہ محمود قریشی کا جنوبی کوریہ کی وزیر خارجہ کو بھی ٹیلیفون۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت سے آگاہ کیا۔ مسٔلہ کشمیر پر مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب اور جنوبی کوریہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

ہم منصبوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور جنوبی کوریا کی وزیرخارجہ کانگ کیونگ وہا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات سے خطے میں امن کو درپیش خطرات سے آگاہ بھی کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ 25 روز سے بد ترین کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں۔ ذرائع مواصلات پرمکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

خوردونوش کی اشیاء مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں۔ عالمی برادری کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ بھارت حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے اقدامات یو۔این اور بینالاقوامی تنظیموں کی قراردادوں کے خلاف ہیں۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے قیام کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ نے اپنے ٹویٹ میں بھی کہا کہ کشمیری بھارت کے بےپناہ ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی تنظیمیں بھارت کو ذمےدار ٹھہرائے۔

انہوں نے ایک صحافی کے آرٹیکل کا لنک بھی شیئر کیا۔ جس میں کشمیری سویلین پر ظالمانہ تشدد کو بے نقاب کیا گیا۔ صحافی سمیر ہاشمی کو مقبوضہ کشمیر کے متعدد شہریوں نے بتایا کہ انہیں انہیں قابض بھارتی فوج کی جانب سے ڈنڈوں اور کیبلز سے مارا پیٹا گیا اور بجلی کے جھٹکے بھی دیئے گئے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کی بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی پہ کرفیو لگا کہ اسے جیل بنا دیا ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں۔ بچے دودھ کے لیے بلک اور بیمار دوائیوں کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ سیکڑوں احتجاج کرنے والے لوگوں کو اب تک قابض فوج کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی جیلوں میں قید اور کئی لاپتہ ہیں۔

زرائع ابلاغ کا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر، مارکٹیں، دکانوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ بینالاقوامی میڈیا بھارت کے اس سفاکانہ اقدام پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers