قومی

ملک بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے مظاہرے

پورے پاکستان کا ایک ہی نعرہ ۔۔۔ کشمیر ہمارا۔ کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ شہر شہر ریلیاں نکالی گئیں۔ 12 سے ساڑھے 12 بجے تک ٹریفک رکی رہی۔ فضائی آپریشن معطل رہا۔ سائرن بجائے گئے۔ پاکستان اور کشمیر کے ترانے گونجتے رہے۔

وزیراعظم کی کال کے مطابق ملک بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ میں بھی کشمیریوں سےاظہار یکجہتی کے حوالے سے مظاہرہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کے ساتھ ساتھ چند سینیٹ ارکان سمیت دیگر شخصیات وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے جمع ہوئیں۔ جہاں سائرن بجائے گئے اور وزیراعظم عمران خان نے خطاب بھی کیا۔

ملک بھر میں آج دوپہر 12 سے ساڑھے 12 کے درمیان تمام ہوائی اڈوں میں فظائی آپریشن معطل رہا۔ کسی بھی جہاز نے اڑان نہیں بھری۔ دن 12 بجے سے آدھے گھنٹے کے لیے ملک بھر کے ٹریفک سگنل سرخ رہے جس کے باعث ٹریفک رکی رہی۔

کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے صادق آباد سے خیبر اور کراچی سے لے کر آزاد کشمیر تک ریلیاں نکالی گئی۔ جس میں لوگوں نے مودی سمیت بھارت کے خلاف خوب نعرے بازی کی۔ صادق آباد میں نوجوانوں نے کشمیر کا 100 فٹ پرچم لہرا دیا۔

اس کے علاوہ دفتر خارجہ میں بھی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں وزیر خارجہ نے بھی شرکت کی۔ لاہور میں چئیرنگ کراس میں بھی بڑا اجتماع ہوا جس میں وزیر اعلی پنجاب سمیت کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔

شہر قائد میں بھی بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر نکل کر مزار قائد پر جمع ہوئے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل، عامر لیاقت، فیصل واوڈا اور شاہد آفریدی نے بھی شرکت کی۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ مودی نے بھارت کو پوری دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔ گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ مودی نے کشمیر کی آزادی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ شروع بھارت نے کیا لیکن کشمیر کی آزادی پر ختم اب پاکستان کرے گا۔

کشمیر یکجہتی آور: فوجی لباس میں شاہد آفریدی کی میڈیا سے گفتگو#AapNews #BreakingNews #ShahidAfridi #Kashmir #AapNewsLive

Posted by Aap News on Friday, August 30, 2019

 

اس کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں فیصل آباد، سیالکوٹ، جہلم، قصور، لاڑکانہ، نواب شاہ، ٹھٹھہ، حیدرآباد، راولپنڈی، مظفرآباد، ملتان، لیہ، پشاور میں بھی بڑے بڑے مظاہرے کیے گئے۔ سائرن بجائے گئے۔ پاکستان اور کشمیر کے ترانے گونجتے رہے۔ اور بھارت کے مظالم کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔ اس سفاکانہ اقدام پہ دنیا بھر کے لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس کے بعد سے مقبوضہ وادی پہ کرفیو لگا کہ اسے جیل بنا دیا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں۔ بچے دودھ کے لیے بلک اور بیمار دوائیوں کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ سیکڑوں احتجاج کرنے والے لوگوں کو اب تک قابض فوج کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی جیلوں میں قید اور کئی لاپتہ ہیں۔ زرائع ابلاغ کا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر، مارکٹیں، دکانوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ ان بھارت مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے کچھ روز پہلے احتجاج کی کال دی تھی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers