بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے 27 دن ہو گئے

مقبوضہ کشمیر میں نظام زندگی 27 دن سے جام۔ مکین گھروں میں محصور، فاقوں پر مجبور۔ ادویات نہ ہونے سے بیمار لوگوں کی زندگیاں داؤ پہ لگ گئیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی کھلی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اب تک 10 ہزار افراد گرفتار ہوئے۔ مظالم دنیا سے چھپانے کے لیے میڈیا بلیک آؤٹ جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بے بسی کی تصویربن گئے۔ گھروں میں قید ہوئے 27 روز ہو گئے۔ دودھ کے لیے بلکتے بچے، دوا کے لیے ترستے بیمار عالمی برادری کی توجہ کے طالب۔ دنیا نے آنکھیں پھیر لیں۔

مقبوضہ وادی میں 5 اگست کو لگائے گئے کرفیو کو آج 16 روز ہو گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی نشریات روزانہ کی بنیاد پر بند ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنماؤں کو بھی گھروں یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرفیوکے باوجود بھی سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے۔ جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا کی تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے کچھ خاص علاقوں میں سکول کھلنے کے باوجود خالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بھی بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers