بین الاقوامی

وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو خطرے کی گھنٹی سے آگاہ کر دیا

مودی سرکار نے اکھنڈ بھارت منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ بھارتی ریاست ریاست آسام سے 19 لاکھ مسلمان غیر قانونی ڈکلئیر، شہریت چھین لی۔ وزیراعظم عمران خان کی مذمت۔ کہا کہ بھارتی اقدام نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی بھی اسی پلان کا حصہ ہے

سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مودی سرکار کی بنگلادیشی مہاجرین کو نکالنے کے بہانے سے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی کوششوں پر رد عمل دیا۔

اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے میڈیا پر مودی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی پر رپورٹس شائع ہورہی ہیں۔ جو کہ دنیا کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مقبوضہ وادی پر غاصبانہ قبضہ بھی اسی بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 

 

دوسری جانب مودی سرکار نے شہریت کے حوالے سے رجسٹریشن لسٹ جاری کرتے ہوئے 19 لاکھ سے زائد افراد کو بھارتی شہریت سے محروم کر دیا ہے۔

ان مسلمانوں سے ووٹ ڈالنے یاں زمینیں الاٹ کروانے کا حق چھین لیا جائے گا۔ اور اس کے علاوہ ان مسلمانوں کو مودی سرکار کی جانب سے ملک بدر کرنے کا بھی اندیشہ ہے۔

اس اقدام کی وجہ سے عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے مودی سرکار نے آسام میں ہزاروں کی تعداد میں اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ مودی سرکار نے کشمیر میں نسل کشی کرنے کے لیے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کیا تھا۔

اور اس سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم بھی کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ وادی پہ کرفیو لگا کہ اسے جیل بنا دیا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں قید ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئی ہیں۔ بچے دودھ کے لیے بلک اور بیمار دوائیوں کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

سیکڑوں احتجاج کرنے والے لوگوں کو اب تک قابض فوج کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے جبکہ کئی جیلوں میں قید اور کئی لاپتہ ہیں۔ زرائع ابلاغ کا مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر، مارکٹیں، دکانوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ تالے لگے ہوئے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers