بین الاقوامی

مسٔلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھاؤں گا۔ وزیراعظم

وزیراعظم کا مسٔلہ کشمیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کنونشن سے وڈیو لنک کے ذریعے سے خطاب۔ کہا کہ آج کا بھارت آر ایس ایس کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ بھارت فروری ایڈونچر دہرائے گا۔ ایسی کوئی حرکت کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

وزیراعظم پاکستان نے کنونشن سے خطاب میں کہا کہ بھارت میں آرایس ایس مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے۔ مغربی معاشرے کو آر ایس ایس کا فلسفہ سمجھنا ہوگا۔ اس تنظیم کا یقین ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کیلئے ہے۔

قیام پاکستان سے قبل قائداعظم ہندو اور مسلمانوں کے سفیر سمجھتے جاتے تھے تاہم وہ جلد ہی سمجھ گئے کہ ہندو صرف اپنے لیے آزادی چاہتے ہیں۔ آر ایس ایس کس طرح سے شروع ہوا وہ ہم سب آج انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہمیں خدشہ  ہے کہ بھارت پھر سے فروری جیسا ایک اور ایڈونچر دہرائے گا۔ انہوں نے بھارت کو وارننگ دے کر کہہ دیا کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دیگا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمان نا صرف اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں بلکہ پہلے آئے تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن مغرب مسلمانوں کی نبی کریم ﷺ سے محبت نہیں سمجھتا۔

دنیا میں مسلمانوں کی بنائی گئی امیج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن نائن الیون کے بعد ہر واقعے کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔ آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جائے لیکن یورپ میں مسلمانوں کی مساجد پر بھی حملے ہوئے۔ دنیا بھرمیں اسلامو فوبیا بڑھتا جا رہا ہے۔ کسی ایک شخص کے عمل کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو برابری کے حقوق نہیں مل رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ کرفیو میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے۔ وہاں کی قیادت کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار ہیں۔ بھارت کا سیکولرزم خطرے میں پڑ گیا ہے۔ مودی سرکار کی بے وقوفی سے دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers