بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 29واں روز

مقبوضہ کشمیر کی جنت کو جہنم بنے 29 دن ہو گئے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کا سنگین بحران۔ قابض فوج نے اگست کے مہینے میں 16 شہری شہید، 11 ہزار گرفتار اور 31 گھر تباہ کیے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی قریب ہے۔ مودی کا حشر بھی ہٹلر جیسا ہو گا۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بے بسی کی تصویربن گئے۔ گھروں میں قید ہوئے 29 روز ہو گئے۔ دودھ کے لیے بلکتے بچے، دوا کے لیے ترستے بیمار عالمی برادری کی توجہ کے طالب۔ دنیا نے آنکھیں پھیر لیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی نشریات روزانہ کی بنیاد پر بند ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنماؤں کو بھی گھروں یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرفیوکے باوجود بھی سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے۔ جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا کی تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے کچھ خاص علاقوں میں سکول کھلنے کے باوجود خالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بھی بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی کے اقدامات کے باعث کشمیر کی آزادی آخری مرحلے میں ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت آسام میں کیا کر رہا ہے۔ وہاں مودی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

مودی سرکار کو پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا ہے اور اس کا بھی ہٹلر جیسا انجام ہوگا۔ ہٹلر نہیں مان رہا تھا کہ جرمنی تباہ ہوا ہے اور اسے خود کشی کرنا پڑی۔ اسی طرح مودی کی پالیسی بھی ہٹلر جیسی ہے۔ مودی دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی اکیلا ہو گیا ہے۔ وہاں کی سکھ کمیونیٹی بھی اس کے خلاف ہے وہ بھارت میں نہیں رہنا چاہتے۔ مودی کے ان سب اقدامات کا مقصد بھارت کی بری معیشیت سے توجہ ہٹانا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers