بین الاقوامی

پاکستان نے بھارت کو دہشتگرد کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دے دی

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد۔ پاکستان نے بھارت کو دہشتگرد کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دے دی۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آہلووالیہ کی دہشتگرد سے ملاقات جاری۔

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق اور ویانا کنونشن کی روشنی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے موجودہ سروس نیوی افسر دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو آج قونصلر رسائی دے دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کلبھوشن کی بھارتی سفارتخانے کے اہلکاروں سے ملاقات دفتر خارجہ کی عمارت میں کرائی جا رہی ہے۔ ملاقات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمانڈر کلبھوشن بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر اور بھارتی ایجنسی را کا ایجنٹ ہے۔ کلبھوشن یادیو بدستور پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔ کلبھوشن جاسوسی ، دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہونی کی وجہ سے پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔

کچھ دن قبل اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کلبھوشن یادھو کو قونصلر رسائی دیئے جانے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن ملک ہے۔ ہم خطے کا امن خراب نہیں کرنا چاہتے۔ جنگ آخری آپشن ہوتا ہے۔ لیکن بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بھارت نے گزشتہ ماہ کے شروع میں کلبھوشن یادیو سے ملاقات کا پہلا موقع گنوا دیا تھا۔ پاکستان نے بروز جمعہ ملاقات کی پیشکش کی تھی جس پر بھارت نے 2 گھنٹے پہلے جواب بھیجا اور اپنے جاسوس تک بغیر کسی رکاوٹ رسائی مانگی تھی۔ پاکستان نے شرط ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد کلبھوشن تک بھارتی حکام کو رسائی آج ملی ہے۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 17 جولائی کو کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں ہونے والی سماعت میں عالمی عدالت کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی اجازت دی تھی۔ عدالت انصاف نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ کلبھوشن یادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہرگیا اور واپس آیا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے کلبھوشن یادیو کو بھارتی جاسوس قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کمانڈرکلبھوشن پاکستان کی حراست میں ہی رہے گا کیوں کہ کلبھوشن یادیو پرجاسوسی کا الزام ہے۔ جبکہ اس پر ویاناکنونشن لاگو ہوگا۔ سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی اور اسی بنا پر کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers