قومی

جنگ جنگ ہوتی ہے، بھارت کرے یا اسرائیل۔ آصف غفور

جنگ جنگ ہوتی ہے، بھارت کرے یا اسرائیل۔ ہم بلا خوف جواب دیں گے۔ کشمیر پر نہ اب تک سودے بازی کی نہ کوئی کر سکتا ہے۔ مودی نے کشمیر کے معاملے پر نو بال کی چھکا تو ضرور لگے گا۔ بولے کہ امریکہ کو اسامہ کے بارے میں معلومات ہم نے دی مگر امریکہ نے یکطرفہ آپریشن کر کے ہمیں دھوکہ دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں کہا کسی بھی ملک کے 2 حالات ہوتے ہیں، ایک اندرونی اوردوسرا خطے کی صورتحال ہے۔ ہمارے خطے میں عالمی طاقتوں کے مفاد جڑے ہیں۔ اس لیے اس خطے میں اپنے مفاد کو حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو اہمیت حاصل ہے۔ ہمیں نظرانداز کر کے ان کے مفادات پورے نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ چین کا اس خطے میں معاشی لحاظ سے اہم کردار ہے۔ ہمارے چین کے ساتھ تعلقات بہترین ہیں۔ چین کے بھارت سے مسائل ہونے کے باوجود بھی معاشی تعلقات ہیں۔ افغانستان میں گزشتہ 40 سال میں شہادتوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا گیا۔ جنوب مغرب میں ایران واقع ہے۔ جس سے ہمارے بھائیوں جیسے تعلقات وابستہ ہیں۔ خطے کے امن کیلئے ایران کی جانب سے خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مشرقی سرحد پر کچھ بھی ہوتا ہے تو ہماری ساری توجہ صرف ادھر ہی مرکوز ہو گی۔ عوام چاہتی ہے کہ انہیں پتا چلے کہ کیسے جواب دیا جائے گا۔ موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اور ہم ایک ہیں۔

بولے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باوجود بھارت نے سرحد پر اشتعال انگیز فائرنگ جاری رکھی۔ بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کی دہشت گردی کی خلاف کی جانے والی جنگ سے توجہ ہٹ جائے۔

کشمیر کے حوالے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر خطے میں بہت ہی اہم شکل اختیار کر چکا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس سوچ کی حکومت ہے۔
کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ کشمیر کے معاملے پر کسی بھی انتہا تک جائیں گے۔ چاہیے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہم اس کے لیے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے۔ کشمیرکسی فرد، پارٹی کاایشو نہیں یہ پاکستان کاایشو ہے، کشمیر کیلئے ہم سب نے مل کر آواز اٹھانی ہے۔

کشمیر پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم میں جو بھی بات ہوئی سامنے آئی، ہمیں اپنی لیڈر شپ پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کشمیر پر نہ اب تک سودے بازی کی نہ کوئی کر سکتا ہے۔ مودی نے کشمیر کے معاملے پر نو بال کی چھکا تو ضرور لگے گا۔

بھارتی اقلیتیں مشکلات کا شکار ہیں۔ وہاں مسلم اور سکھوں سمیت تمام اقلیتتیں انتہا پسندی کی سوچ کا شکار ہیں۔ بھارت میں لوگوں کو مذہبی اور معاشرتی آزادی نہیں ہے۔ سیکولر بھارت انتہا پسندی کی جانب راغب ہوچکا ہے۔ جبکہ ہم نے دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کیا ہے۔

بھارت کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت ايل او سی کی خلاف ورزی يا کوئی بھی فالس فليگ آپريشن کرسکتا ہے۔ مقبوضہ وادی ميں عالمی طاقتوں نے ظلم و ستم نہ رکوايا تو پاکستان کیلئے جنگ آپشن نہيں بلکہ مجبوری بن جائے گی۔

پاکستان نے پہلے بھارت سے مذاکرات کی پیشکش کی لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مزید کوئی مذاکرات کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ بولے کہ نریندر مودی کی خواہش ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جس سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دیں۔ ایسی صورتحال میں لائن آف کنٹرول پراشتعال انگیزی کی جا سکتی ہے جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے بھارت 27 فروری یاد رکھے۔ ہمارے جوان ہر قسم کی جارحیت کاجواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں۔

آرمی چیف کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے۔ 41 سالہ سروس کے بعد ہر کوئی آرام کرنا چاہتا ہے، پہلی بار چینی صدر نے کسی آرمی چیف کو ذاتی طور پر بلا کر ملاقات کی۔ ان کے دوسرے ملک کے سربراہان سے اچھے تعلقات ہیں۔ صورتحال دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی مدت میں توسیع کی۔

بولے کہ وزیر خارجہ کا کام سفارتکاری کے ذریعے اٹھے ہوئے تنازعات کو حل کرنا ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن سے ہماری مغربی سرحد محفوظ ہو جائے گی، کیا کرنا ہے یہ آپ کو پتا ہے لیکن کیسے کرنا ہے یہ ہم پر چھوڑ دیں،۔اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہیں۔

بولے کہ اسامہ بن لادن کا پتا لگایا گیا پہلی کال پاکستان نے ٹریس کی تھی۔ٹیلیفونک کال ٹریس کر کے امریکا سے تفصیلی انٹیلی جنس شیئرنگ کی گئی۔ مگر امریکہ امریکہ نے یکطرفہ آپریشن کر کے ہمارے ساتھ دھوکہ گیا۔ صدر ٹرمپ ہے بات منہ پہ کرنے والے ہیں۔
مودی کے حوالے سے مزید کہا کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر نوبال کی ہے اب چھکا تو لگے گا۔ مودی بند گلی میں جا چکا ہے۔ جنگ پیسے بچانے کے لیے نہیں بلکہ عزت وغیرت کے لیے لڑی جاتی ہے۔

بولے کہ ہر حال میں پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ کشمیر کا معاملہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ دبا ہوا معاملہ اب بینالااقوامی برادری کے سامنے آرہا ہے۔ جس کیلئے انٹرنیشنل سمیت پاکستانی میڈیا کا بہت شکر گزار ہوں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers