قومی

آرمی چیف کا یوم دفاع کی تقریب سے خطاب

کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کا امتحان ہے۔ کشمیریوں کو کبھی حالات کے رحم و کرم پر تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ آرمی چیف کا یوم شہداء کی تقریب سے خطاب۔ کہا کہ آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک اپنا فرض نبھائیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی یادگار شہداء پر حاضری، پھول چڑھائے۔

یوم شہداء اور یوم دفاع کی مرکزی تقریب راولپنڈی جی ایچ کیو میں ہوئی۔ جس میں مہمان خصوصی پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ اس تقریب سے خطاب کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔ بولے کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا خون شامل ہے۔ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں نہ ہی جائیں گی۔ ہمارے شہید ہماری پہچان ہیں۔ اپنے شہیدوں کے خاندانوں کا حوصلہ دیکھ کر میرا اعتماد بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کوئی شہادت نہیں بھولے۔ زندہ قومیں اپنے شہدا پر ناز کرتی ہیں۔ انہوں نے پاک فوج اورقوم کی طرف سے غازیوں اورشہداء کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جانتا ہوں آپ کے دکھوں کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن آپ کا حوصلہ ہمارے لیے مثال ہے۔

کشمیر کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیریوں کی تکالیف اور خلاف ورزیاں انسانی ضمیر کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ وہاں ریاستی دہشتگردی عروج پر ہے۔ کشمیر کا مسٔلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل ہونا چاہیے۔ کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کا امتحان ہے۔ کشمیریوں کو کبھی حالات کے رحم و کرم پر تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیر تکمیل پاکستان کا نا مکمل ایجنڈا ہے۔ یہ ہماری شہہ رگ ہے، آخری گولی، آخری سانس،آخری سپاہی اور خون کے آخری قطرے تک اس کیلئے لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان مصالحتے عمل میں پاکستان کا بھرپور کردار ہے۔ امید ہے وہاں بہت جلد امن قائم ہو گا۔ خطے میں پاکستان کا کردارمثبت رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن وسلامتی پر زور دیا ہے۔ ہم افغانستان میں امن واستحکام کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بعد اب غربت، جہالت اور پسماندگی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ایک پُرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہماری منزل ہے۔ زندہ قومیں اپنے شہیدوں پر ناز کرتی ہیں۔ وطن کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اپنے خطاب سے پہلے آرمی چیف نے یادگار شہداء پر حاضری بھی دی اور پھول بھی چڑھائے۔ تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور دیگر اعلی حکام بھی شامل تھے۔

تقریب میں ایک ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی جو کہ 1965ء کی جنگ پر مبنی تھی۔ اس میں شہداء کے لواحقین کے تاثرات بھی شامل تھے۔ جسے دیکھ اور سن کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ تقریب میں پاکستان کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا جس پر سب نے کھڑے ہو کر شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers