قومی

فخرِ پاکستان ایم ایم عالم ۔ یومِ دفاع و شہدا 2019

6 ستمبر 1965 کی شب، بھارتی فوج نے جنگ کا اعلان کیے بغیر بین الااقوامی بارڈر پار کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا۔

بھارتی سرماؤں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کا مقابلہ پاکستانی شیر جوانوں سے ہے۔ بھارتی فوج کو جنگ شروع ہوتے ہی ہر میدان میں منہ کی کھانا پڑی اور شکشت ان کا مقدر بنتی گئی۔

سرگودھا کے محاذ پر پاک فضائیہ کے پائلٹ ایم ایم عالم نے بہادری کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ سے کم وقت میں زمین بوس کر دیا۔

بھارت کے 4 طیارے ابتدائی تیس سیکنڈ میں مار گرائے، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ انہوں نے اس لڑائی میں دشمن کے کل 9 جہاز تباہ کیے۔ پاک فضائیہ کے اس شاہین نے یہ کارنامہ اپنے ایف 86 سیبر طیارے کے ذریعے سر انجام دیا جو کہ آج بھی لاہور کے ایک پارک میں موجود ہے۔

ایم ایم عالم 6 جولائی 1935ء کو کلکتہ، برٹش ہند کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ آزادی کے وقت انہوں نے مشرقی پاکستان میں ہجرت کی اور 1952ء میں وہ پاک فضائیہ میں شامل کیے گئے۔

1965ء کی جنگ میں ان کے کارناموں نے انہیں کراچی کے پاک فضائیہ (پی اے ایف) میوزیم میں واقع ہال آف فیم لسٹ کے اوپرشامل کردیا ہے۔ اور وہ پاکستان کے قومی ہیروز کی فہرست میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی پھرتی اور جارحانہ اڑان کے باعث انہیں لٹل ڈریگن کا خطاب بھی دیا گیا۔

 

ایم ایم عالم 18 مارچ 2013ء کو کراچی میں 77 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ایئر فورس کے لیجنڈ کو کراچی کے پاکستان نیوی اسٹیشن شفا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ 18 ماہ سے سانس کی تکلیف میں زیر علاج تھے۔ ایم ایم عالم کی نماز جنازہ پی اے ایف بیس مسرور میں ادا کی گئی۔ جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے کچھ اہم سال خدمت سرانجام دی۔

پاک فضائیہ کے شاہین کے نام پر لاہور میں ایک سڑک کو ایم ایم عالم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کو کہ گلبرگ کے علاقے میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ 20 مارچ 2014 کو ان کی پہلی برسی کے موقع پر پی اے ایف ایئر بیس میانوالی کا نام تبدیل کرکے ان کا نام پی اے ایف بیس ایم ایم رکھ دیا گیا۔

ایم ایم عالم پاک فضائیہ کا ایک روشن باب اور پاکستان ائیر فورس میں شمولیت کرنے والے ہر شاہین کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers