قومی

ادب کی دنیا اشفاق احمد کے بغیر ادھوری، 15ویں برسی پر مداح اداس

اشفاق احمد جہانِ فانی سے رخصت ہونے کے باوجود کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں۔ نثر نگاری ہو يا ڈرامے کی کہانی، ريڈيو کی صداکاری ہو يا ٹيلی ويژن کا پروگرام، اشفاق احمد نے جس ميدان ميں بھی قدم رکھا بھرپور کامیابی سمیٹی۔

اشفاق احمد کا شمار ان اديبوں ميں ہوتا ہے جو قيام پاکستان کے فوراً بعد ادب کے افق پر چھا گئے۔ سال 1998ء ميں تلقين شاہ کے نام سے ان کی آواز پہلی بار ريڈيو پاکستان سے نشر ہوئی اور اس پروگرام نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور يہ سلسلہ 46 برس تک چلتا رہا۔ اپنے طويل کيرئير ميں اشفاق احمد نے ٹيلی ويژن کے لئے کئی ڈرامے لکھے، جن کو بے حد سراہا گيا۔

گڈريا، توتا کہانی اور ايک محبت سو افسانہ لکھنے والے اس ہمہ جہت شخصيت نے اپنے طويل کيرئير ميں دھوپ اور سائے کے نام سے ايک فيچر فلم بھی بنائی۔ عمر کے آخری حصے ميں اشفاق احمد صوفی ازم کی جانب مائل ہو گئے ليکن ان کے اندر کے داستان گو نے اس ميدان ميں بھی جدت تلاش کر لی۔

ستمبر 7، 2004ء کو داستان سرائے کا يہ مسافر اپنی ابدی منزل کو روانہ ہو گيا ليکن ان کی ياديں اور باتيں آج بھی لوگوں کو دوسروں کے لئے آسانياں پيدا کرنے کی تلقين کر رہی ہيں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers