بین الاقوامیقومی

مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ کے جلوسوں پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ کے جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قابض فوج نے سری نگر کے لال چوک کو سیل کر دیا۔ کرفیو توڑ کر جلوسوں میں شامل ہونے والے عزادار گرفتار۔ وادی کے مکینوں کو گھروں میں محصور ہوئے 36واں دن۔ اشیائے خوردونوش کا بحران سنگین ہونے لگا۔

مقبوضہ کشمیر میں بحارتی فوج نے وہاں کے مقامی لوگوں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ یوم عاشور کے تمام جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مزید فوجی تعینات کر کے کرفیو کو مزید سخت کر دیا گیا۔ عزاداران کو پکڑ پکڑ کر جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے قابض فوج اور عزاداران میں چھوٹی موٹی جھرپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین پر قابض فوج کی جانب سے لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی اس بربریت پر معاون اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ قاتل مودی کی غاصب فوج کے بدترین محاصرے اور کرفیو کے باوجود باہر نکل کر کشمیریوں نے حضرت امام حسین کی سنت کو زندہ کیا۔ حسینیت کے علمبرداروں نے بھارتی جبر کو للکارا ور حق و سچ پر ڈٹےرہنے کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب یزید کی طرح بھارت اور ظالم مودی بھی عبرت کا نشان بنے گا اور کشمیر آزاد ہوگا۔

انہوں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یزید کے پیروکار فسطائی مودی نے مظلوم کشمیریوں کے بنیادی آئینی، جمہوری و انسانی حقوق غصب کرکے ان کی مذہبی آزادی بھی سلب کر لی۔ نہتے کشمیری عزاداروں پر مظالم اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers