قومی

بابائے قوم کی 71ویں برسی آج ملک بھر میں منائی گئی

ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح۔ قائداعظم محمد علی جناح، فہم و فراست، تدبر و شجاعت اور سیاسی بصیرت کا پیکر مسلمانان برصغیر کو مملکت خداداد کا تحفہ دینے والے عظیم قائد کی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ گورنر سندھ اور وزیراعلی کی مزار پر خاضری۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ کراچی کے وزیر مینشن میں پیدا ہونے والا یہ شخص برصغیر کی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں لکھ گیا۔ لندن سے وکالت کر کے لوٹنے پر انہوں نے بمبئی میں وکالت کا عملی آغاز کیا۔ یہی وہ دور تھا جب بابائے قوم نے سیاست میں عدم دلچسپی سے قدم رکھا۔

انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ سے کیا۔ اس جماعت میں لکنو معاہدہ کا سہرہ ان کے سر سجا اور اس دوران ان کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بھی کہا گیا۔ البتہ 1920 میں کانگریس کی مسلم مخالف پالیسیوں کے باعث انہوں نے اس جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔

کانگریس سے جدا ہونے کے بات قائداعظم نے اس بات پر یقین کر لیا کہ الگ ملک ہی مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ اور اس حوالے سے انہوں نے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کیا۔ 1928 میں 14 نکات ہوں یا 1940 کو پاس ہونے والی قرارداد قائداعظم نے اپنے ہر فعل سے مخالفین پر دباؤ ڈالا۔

قائد اعظم نے مسلمانوں کو تدبر، غیر متزلزل عزم سیاسی بصیرت اور بے پناہ قائدانہ صفات سے کام لے کر مسلمانوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد کر دیا تھا۔ ان کی موثر حکمت عملی اور استقامت کے باعث 14 اگست 1947 کو ایک مسلمان ریاست پاکستان معرض وجود میں آئی۔

وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل منتخب ہوئے۔ 1930 میں انہی ٹی بی جیسا موزی مرض لاحق ہوا۔ جسے انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقاء کے علاوہ سب سے پوشیدہ رکھا اور 11 ستمبر 1948 کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

قائداعظم کے اقوال اور سیاسی اور رہنمائی طرزعمل آج بھی اس ملک کے ہر طبقے کے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آج ان کی 71ویں برسی منائی  گئی۔ قائداعظم کے یوم وفات پر گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے مزار قائد پر حاضری دی۔

وزیراعلی سندھ اور گورنر سندھ کی آمد پر پاک بحریہ کے دستوں نے بینڈ بجا کر مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراءجام اکرام اللہ، سعید غنی، شبیر بجارانی، چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ملک بھر میں مختلف مقامات پر قوم کے عظیم قائد کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی کرائی گئی۔ بابائے قوم کی برسی کے سلسلے میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں بانی پاکستان کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers