بین الاقوامی

مسٔلہ کشمیر پر 50 ممالک کے بھارت سے مشترکہ 5 مطالبات

پاکستان کی ایک اور سفارتی کامیابی، انسانی حقوق کونسل میں 50 سے زائد ممالک نے بھارت سے 5 مطالبات کر دیے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے۔ کشمیر میں کرفیو ختم کیا جائے، زرائع مواصلات کی بحالی کی جائے۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ بیان میں 58 ملکوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 5 مطالبات کا ذکر کیا اور بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے۔ وہ کشمیریوں کی آزادی اور سیکیورٹی کو متاثر نہ کرے۔ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری طور پر اٹھائے اور مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کا شٹ ڈاؤن بحال کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یہاں مقبوضہ کشمیر کےعوام کا مقدمہ لے کر آیا ہوں۔ بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی تمام پیشکشوں کو مسترد کیا۔ کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے چھٹکارا دلانے کے لیے عالمی برادری کو آگے آنا ہوگا۔

اپنے جارحانہ خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا کے رکھ دیا ہے۔ بھارت نے 6 ہفتے سے وادی کو محصور کر کے حریت قیادت کو نظربند کر کے رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔ وادی میں مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ کشمیر کے لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جارہا ہے۔ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر کلسٹر اور ہیوی بموں کا استعمال کیا۔
بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی کا رنگ دینا چاہتا ہے۔ میں دنیا کی توجہ 2 جوہری طاقتوں میں کشیدگی کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے جعلی آپریشن کر سکتا ہے۔

بھارتی قابض افواج کے تشدد سے زخمی افراد کو ہنگامی طبی امداد تک میسرنہیں۔ کشمیریوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قائدین چھ ہفتے سے نظربند اور قید ہیں۔ 80 لاکھ سے زائد کشمیری دہائیوں سے بھارت کی طرف سے ہونے والے جبر کا شکار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اس اقدام نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ کیونکہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلمہ تنازعہ تسلیم کر رکھا ہے۔ بھارت جمہوری اور سیکیولر ہونے کا ڈھونگ رچاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف دنیا بھر میں اس پر بات ہورہی ہے۔ غیرجانبدار میڈیا اور مبصرین مقبوضہ کشمیرکے عوام پر بھارتی مظالم کی رپورٹنگ کررہے ہیں۔

ایک اخبار کی اشاعت میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں مظلوم اور بے گناہ کشمیریوں کے ساتھ برتی گئی انتہائی سفاکی اوران کی توہین و تذلیل کے حقائق کو بے نقاب کیا ہے کہ کس طرح قابض بھارتی افواج انتہائی بے رحمی اور بے شرمی سے لوگوں کو برہنہ کرکے سرعام تشدد کا نشانہ بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی گزرے زمانے کی بات نہیں کررہا۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ بربریت آج ہورہی ہے۔ اکیسیویں صدی میں مقبوضہ کشمیر میں یہ تمام ظلم وستم ہورہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن ہم سب اور کشمیریوں کے لیے بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے سامنے پاکستان اور کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور ہمیں مشترکہ بیان دینے میں کامیابی ہوئی ہے۔ وادی میں آزادی کا سورج طلو ع ہونے تک ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers