قومی

پولیس اصلاحات کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ شہباز گل

پنجاب حکومت کو پولیس اصلاحات کے لیے مزید وقت درکار۔ وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل کا کہنا ہے کہ پولیس کو کسی صورت تشدد کی اجازت نہیں۔ ٹارچر روکنے کے لیے آزاد اور خودمختار بورڈ بنانے کی تجویز ہے۔ کسی علاقے میں ٹارچر سیل ملا تو متعلقہ ڈی ایس پیز اور ڈی پی اوز ذمےدار ہونگے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے کہا کہ وزیراعظم کا صاف صاف پیغام ہے کہ پولیس لوگوں کی خدمت کیلئے ہے۔ بحیثیت قوم ہمارے اندر صبر نہیں، معاشرے میں کون ہے جو تشدد کرنیوالے رشتےدار سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو پولیس کلچر بدلنے میں وقت درکار ہو گا۔ ۔ کوئی بھی کام ایک دن میں نہیں ہو سکتا۔ کسی کو کسی صورت تشدد کرنے کی اجازت نہیں۔ ، کسی بھی علاقے میں ٹارچر سیل ملا تو متعلقہ ڈی ایس پی اور ڈی پی او ذمے دار ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزم پرتشدد کرانے کیلئے بھی مخالفین پولیس کو پیسے دیتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک آزاد بورڈ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

بولے کہ پولیس میں ہمارے ہی تایا، چچا، والد اور رشتے دار کام کرتے ہیں۔ یہ ہمارا ادارہ ہے ہم نے ہی اس کو ٹھیک کرنا ہے۔ ہمارے لیے بہت آسان ہے کہ سارا ملبہ پولیس پر ڈال دیں جیسے ماضی کی حکومتیں کیا کرتی تھیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری پولیس اصل میں ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں۔ بحیثیت قوم ہمارے اندر صبر نہیں، معاشرے میں کون ہے جو تشدد کرنیوالے رشتےدار سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حج سے واپس آتے ہوئے اگر آب زم زم کی بوتلیں ملنے میں 5 منٹ دیر ہو جائے تو ہم بیلٹ مشین کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کا واقع خود احکامات دے کر کروایا گیا۔ حکومتیں کام خود کرتی ہیں، الزام پولیس پر ڈال دیتی ہیں۔

بولے کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق ہر ڈی ایس پی اور ڈی پی او کو ایک ایفیڈیوٹ جمع کروانا ہوگا کہ اس کے علاقے میں کوئی ٹارچر سیل نہیں۔ اور اس کے بعد اگر کوئی ایسا واقع پیش آیا تو ان پر اِف آئی آر کاٹی جائے گی۔ اس سے ٹارچرز میں کمی آئے گی۔

مخالفین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے جب وہ لوگ تنقید کرتے ہیں، جنہوں نے پولیس سے بندے قتل کروائے، ماڈل ٹاؤن کا سانحہ پیش کروایا، انہیں بلاوجہ ترقیاں دیں۔ لیکن اب دور اور ہے، لوگ سب سمجھ گئے ہیں۔

پنجاب حکومت پولیس کا نظام ٹھیک کرے گی۔ ہم شہریوں میں پولیس کا ڈر ختم کریں گے۔ ہم ہر تھانے کے قریب ایک باکس لگانے لگے ہیں جس کی بناء پر تھانے کی ریٹنگ کی جائے گی۔ پولیس والے ہمارے بھائی بہن ہیں کوتاہی کریں گے تو سزا ملے گی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers