قومی

میجر عزیز بھٹی شہید کا 54واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے

1965ء کی جنگ کے ہیرو میجرعزیز  بھٹی شہید کو پوری قوم کا سلام۔ شہید کا 54واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے۔ میجر عزیز  بھٹی شہید نے اپنی جرات اور بہادری سے دشمن کے ارض پاک فتح کرنے کے ارادے خاک میں ملا دیے۔

راجہ عزیز احمد بھٹی 6 اگست 1928 کو برطانوی ہانگ کانگ میں ایک پنجابی راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ عزیز بھٹی کی تعلیم ہانگ کانگ میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے میٹرک مکمل کیا اور ہانگ کانگ کے کوئینز کالج میں تعلیم حاصل کی لیکن 1941 میں ہانگ کانگ پر جاپانی حملے اور قبضے کی وجہ سے ان کی تعلیم رک گئی۔

1947 میں قیام پاکستان کے بعد ، بھٹی نے پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور پاک فضائیہ میں بطور کارپورل (سی پی ایل) کی حیثیت سے ترقی پائی۔ اس عہدے پر 1948 تک وہ فضائیہ میں خدمات انجام دیتے رہے۔

21 جنوری 1948 کو میجر عزیز بھٹی نے وزارت دفاع کو درخواست دی کہ ان کا تبادلہ پاکستان آرمی میں کیا جائے۔ جو کہ منظور ہونے کے بعد انہوں نے کاکول اکیڈمی میں شرکت کر لی۔

6 ستمبر 1965ء بھارتی جرنیلوں کا منصوبہ تھا کہ اس دن لاہور کی سڑکوں پر بھارتی ٹینک سلامی دیں گے۔ اور شام کو لاہور جم خانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران دنیا کو خبر دیں گے کہ لاہور پر بھارت کا قبضہ ہے۔

مگر بھارتی جرنیلوں کو علم نہیں تھا کہ ان کا مقابلہ میجر عزیز بھٹی سے ہو گا۔ جو اس وقت لاہور سیکٹر کے علاقے برکی میں کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔

میجر عزیز مسلسل پانچ دن تک بھارتی ٹینکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے۔ اور بھارتی فوجیوں کے ناپاک قدموں کو لاہور شہر کی طرف بڑھنے سے روکے رکھا۔

12 ستمبر 1965ء کو اس معرکے میں بھارتی ٹینک کا گولہ اپنی چھاتی پر کھایا اور جام شہادت نوش کر گئے۔ میجر عزیزبھٹی شہید کو گجرات کے قریب ان کے آبائی گاؤں لاڈیاں میں سپرد خاک کیا گیا۔ انہیں پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔

ان کے مقبرے پر لکھا گیا ہے کہ شہادت کا چہرہ، ملک اور قوم کا فخر یہ نڈر سپاہی۔ ان کی تلوار کے ایک وار سے دشمن کے بڑے مظاہرے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے فتح یاب ہوئے۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے لاہور فرنٹ پر بہادری سے مقابلہ کیا اور بعد میں انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers