قومی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر عارف علوی کا پہلا خطاب

قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس چئیرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں صدر پاکستان عارف علوی نے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس | صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان ایوان میں موجود #AapNews #BreakingNews #AapNewsLive #PmImranKhan #PresidentArifAlvi #ChiefofAirStaff #MujahidAnwarKhan

Posted by Aap News on Thursday, September 12, 2019

 

اپنے خطاب میں صدر پاکستان نے کہا کہ آج موجودہ حکومت کا پہلا پارلیمانی سال پورا ہونے پر میں پورے ایوان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی کارکردگی پہ نظر رکھوں۔ عوام کے نمائندوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ  دنوں پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدام پر حکومت پاکستان اور عوام نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ بھارت نے اپنے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بینالاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ 7 اگست کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس نے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔

حکومت پاکستان نے بھارت سے تجارت اور سفارتی تعلقات ختم کیے اور ان کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر کونسلوں میں اس مسٔلہ کو بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسٔلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں اٹھایا گیا۔ جب بھارت اس اجلاس کو روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔

50 سال بعد اجلاس ہونا اس بات کی عکاسی ہے کہ مسٔلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تجزیہ طلب مسٔلہ ہے۔ جس کے حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ یہ مسٔلہ علاقے کے امن کے لیے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحارت کے ان جارحانہ اقدامات کی او۔آئی۔سی نے بھرپور مذمت کی۔ اور مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی اس معاملے پر 58 مملک کی حمایت سے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

ہم ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کشمیر کے مسٔلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سلامتی کونسل کے اجلاس کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنایا۔ اس ضمن مین ہم چین کی کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ میلیٹرائزڈ زون ہے۔ بھارت جارحانہ ہتھکنڈے

استعمال کر کے کشمیریوں کی آواز سلب نہیں کر سکتا۔
بھارت کی جمہوریت اور سیکولرزم آر ایس ایس کی جنونیت کی نظر ہیں۔ 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ مین اقوام متحدہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مبصرین بھیج کر مقبوضہ کشمیر کے حالات واضح کرے۔ وہاں 1 لاکھ 80 ہزار فوجیوں کی تعیناتی تشویش کا باعث ہے۔
بحارتی فوج کے اقدامات کشمیریوں کے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کرنا چاہتے ہیں۔

آج اگر دنیا نے اس کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ پاکستان انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم اپنے کشمیری بھایوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی موڑ پر انہیں تنہا نہیں چھاڑیں گے۔

بھارت لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری سے جنگ بندی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس سے جنوبی ایشیاء میں امن سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ بحارتی حکمران ہوش کے ناخن لے۔ پاکستان نے بھارتی جنگی جنون کا جواب صبر سے دیا ہے۔ امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

وزیراعظم نے پلوامہ واقعے پر تحقیقت کی پیش کی تھی مگر انہوں نے جنگی طیارے بھیجے جن کا پاک فضائیہ نے پھرپور جواب دیا۔ بھارتی پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ اور اگلے ہی روز جذبہ خیر سگالی کے تحت ہم نے اس کی رہائی کا اعلان کیا جسے دنیا بھر نے سراہا۔ بھارت میں ہونے والے واقعات نے بانی پاکستان کی بسیرت کو اجاگر کر دیا ہے۔

کمانڈر کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016ء سے گرفتار کیا گیا تھا، بلوچستان میں آنے کا مقصد تخریب کار اور دہشتگردی پھیلانا تھا، پاکستان کی فوجی عدالت نےکلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنا تھی،بھارت یہ معاملہ عالمی عدالت لے گیا جہاں اس کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ دنیا کو ادراک کرنا ہو گا کہ بھارت میں ہندوپالیسی پر مزاحمت کرنا ہو گی۔ آر ایس ایس کی مذہبی جنونیت کی وجہ سے نہرو، مہاتما گاندھی کی پالیسی پیچھے چلے گئی ہے۔

نبی ؐ نے اپنے کردار سے دنیا کو مدینہ کی ریاست بنا کر دکھایا۔ موجودہ حکومت ترقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایک سال کی قلیل مدت میں کابینہ کے 50 سے زائد اجلاس ہوئے جو خود اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت اپنے فرائض انجام دہی کے لیے فعال اور متحرک ہے۔ میں خوش ہوں کہ وزیراعظم عمران خان زاتی دلچسپی سے ہر وزارت کی کارکردگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم پورٹل کا انعقاد کیاگیا میں چاہتا ہوں کہ اس نظام کو مزید پھیلایا جائے تا کہ عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ کفایت شعاری کے فیصلوں کو سراہتا ہوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں نوجوانوں کو جدیدعلوم سے آشنا کروانا ہو گا۔ جمہوریت اداروں کے استحکام سے ہی جمہوریت فرغ پا سکتی ہے۔

معاشی اعتبار سے ملک بدترین تاریخ سےگزر رہا ہے۔ گردشی قرضے اور کرنٹ اکؤنٹ ڈیفیسٹ حکومر کو ورثے میں ملے۔ حکومت ادارے اختیار میں لا کر سمگلنگ کو روکے۔ پرانی پالیسیوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت فیصلے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں۔ ٹیکس گزاروں کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اور اس حوالے سے مختلف منصوبوں پر کام بھی ہو رہا ہے۔ انسٹیٹیوشنل ریفارمز کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملک میں بدعنوانی کی لانت پھیل چکی ہے۔ ملک میں احتساب ضروری ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کر جاتا ہے، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اس کے منفی اثرات ہمارے ملک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہی ہے۔ کراچی اور لاہور کے لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ حکومت نے کلین اینڈ گرین پروگرام کا آغاز کیا اور پانچ سال میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔

ملک توانائی بحران کا شکار رہا ہے۔ حکومت نے توانائی بحران کو کم کرنے کے لیے بہت اقدام اُٹھائے ہیں۔ صنعتوں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور بجلی چوری، اوور بلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ آن لائن ویزہ سروس شروع ہوئی ہے۔ اسی کی مثال کرتار پور راہداری ہے۔ سکھ برادری دنیا بھر سے آئیں گے اور مذہبی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

پانی کے ذخائر پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کا حل نئے ڈیم کی تعمیر ہے۔ ہمیں خیال سے پانی کا استعمال کرنا ہو گا اور اس کو ضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔

چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا، ائیرچیف مجاہد انور خان دیگر سول اور عسکری قیادت بھی پارلیمنٹ میں موجود تھی۔

صدر پاکستان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے بھرپور شور اور ہنگامہ آرائی کی۔ اور اسپیکر کے ڈیسک کا گھیراؤ بھی کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، شہد خاقان عباسی۔ سعد رفیق، رانا ثناءاللہ اجلاس مین شریک نہیں ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان دیگر وزراء کے ساتھ اجلاس میں شریک تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers