قومی

وزیراعظم عمران خان کا مظفرآباد میں جلسے سے خطاب

مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے کشمیریوں کا سفیر بننے کی بات اس لیے کی کیونکہ میں ایک پاکستانی، ایک مسلمان ہوں۔

آئیں چلیں سب مظفر آباد، بن کر کشمیریوں کی آواز | وزیر اعظم عمران خان جلسہ گاہ میں موجود #AapNews #BreakingNews #LatestNews #FreeKashmir #KashmirBaneGaPakistan #PmImranKhan #Muzaffarabad

Posted by Aap News on Friday, September 13, 2019

 

کشمیریوں کا مسٔلہ انسانیت کا مسٔلہ ہے۔ وہاں مائیں، بہنیں، بزرگ، بچے کرفیو کے نیچے ہیں۔ میں آج خاص طور پہ نریندرمودی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ صرف بزدل انسان ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں کے اوپر ہندوستان کی 9 لاکھ فوج 40 دن سے انہیں بند کر کے کر رہی ہے۔

ایک دلیر انسان کبھی عورتوں اور بچوں پہ یہ ظلم نہیں کر سکتا۔ جو آج نریندر مودی اور اس کی آر ایس ایس  انتہا پسند ہندو جماعت کشمیر میں کر رہی ہے۔ مودی آپ کشمیریوں پہ جتنا بھی ظلم کر لیں مگر آپ کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ کشمیریوں میں موت کا ڈر چلا گیا ہے۔ آپ انہیں شکست نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی بچپن سے آر ایس ایس کا ممبر ہے جس کے اندر مسلمانوں کی نفرت بھری پڑی ہے۔ یہ تنظیم اقلیتوں کے لیے نہیں بلکہ ہندوؤں کے لیے ملک چاہتی تھی۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے نفرت ہے۔

میں نریندر مودی اور ہندوستان کو کہنا چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں میں کشمیر کا سفیر بن کے جاؤں گا اور ساری دنیا کو آر ایس ایس کی اصلیت بتاؤں گا۔یہ تنظیم بھی ہٹلر کے راستے پہ چل رہی ہے۔ اس کے بانی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو یہاں سے نکالا جائے۔ اس سوچ کا ہندوستان کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔

یہ وہ ہندوستان بننے جا رہا ہے جو نہ کبھی نہرو چاہتا تھا نہ گاندھی چاہتا تھا۔ مسٔلہ کشمیر اب ایک انٹرنیشنل ایشو بن گیا ہے۔ 50 سال کے بعد اقوام متحدہ میں کشمیر ایشو پہ بات ہوئی۔ یورپی یونین نے پہلی دفع کہا کہ کشمیر کا مسٔلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق ہونا چاہیے۔

ہیومن رائٹس کونسل میں 58 ملکوں نے کہا کہ کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے۔ کرفیو اٹھایا جائے۔ او آئی سی نے بھی کہا کہ ہندوستان کرفیو اٹھائے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں 50 ایم پیز نے پہلی دفع کشمیر پر بات کی۔ امریکہ میں سینیٹرز نے بھی کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظفرآباد والو ابھی آپ انتظار کرو اگلے ہفتے میں یونائیٹد نیشنز(اقوام متحدہ) کی جنرل اسمبلی میں جا رہا ہوں۔ اور انشااللہ اپنے کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا۔ کشمیریوں کے لیے آج تک کوئی ایسے کھڑا نہیں ہوا ہو گا جیسے میں کھڑا ہوں گا۔ انٹرنیشنل میڈیا پہ میں کشمیر کی بات کروں گا۔ الجزیرہ اور رشین میڈیا کو دیا ہوا میرا انٹرویو سننا، آپ کو سن کر فخر ہو گا۔

میں ہندوستان کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو کشمیریوں پر آپ کی فوج ظلم کر رہی ہے۔ اس سے کشمیریوں کی جانب سے بغاوت ہوگی انتہا پسندی جنم لے گی. آپ انسانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگر میرے ساتھ ایسا ہوتا تو میں لڑتا کیونکہ ایسی زندگی سے موت اچھی ہے۔

ایسے اقدامات سے آپ بھارت میں 20 کڑور مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ یہاں آپ کی کوئی جگہ نہیں، آپ کو کوئی آزادی نہیں۔ دنیا میں جب آپ انسانوں کو  کونے کی طرف دھکیلتے ہیں تو وہ انتہا پسند ہو جاتے ہیں۔

پوری دنیا میں سوا ارب مسلمان آج کشمیر کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ بھی ان کے لیے بندوق اٹھائیں گے۔ ہمارے دین کا مطلب امن ہیں۔ ہم امن پسند لوگ ہیں۔

پلوامہ میں جب 20 سالہ نوجوان پہ ظلم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو بم مار کر اڑا دیا۔ بھارت نے یہ دنیا کو نہیں بتایا کہ یہ سب ان کے ظلم کی وجہ سے ہوا۔ مودی نے الٹا الزام پاکستان پر لگایا۔ ہم نے ان کے جہازوں کو گرایا اور ان کا پائلٹ واپس کیا اس لیے کہ ہم امن چاہتے تھے۔ مگر مودی حکومت نے اپنے لوگوں کو کہا کہ پاکستان ڈر گیا ہے۔ مودی کان کھول کر سن لو، ایمان والا اپنی موت سے نہیں ڈرتا۔ اُس میں کیا خوف ہے۔ پائلٹ تمہارے ڈر سے واپس نہیں کیا، امن کے لیے کیا۔

مودی یہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے پھر یہ سوچا کہ دنیا کی نظر پاکستان پہ لے آؤ گے، اور اگر اس بار طیارہ یا فوج آئی تو اینٹ کا جواب پتھر سے آئے گا۔ یہ وہ قوم ہے جو آخری دم تک تمہارا مقابلہ کرے گی۔ عالمی برادری کو کہتا ہوں کہ ہندوستان کے ہٹلر کو روکو۔ اس کو بتاؤ کہ کشمیر سے کرفیو اٹھائے اور ان کو ان کا حق دے۔ کشمیر کے لوگوں کو ریفرینڈم کا موقع دیا جائے۔ ہم کشمیریوں کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہونگے۔

وزیراعظم نے مظفرآباد کے لوگوں سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ لائن آف کنٹرول کے پار جانا چاہتے ہیں۔ آپ میں جذبہ اور جنون ہے۔ لیکن وہاں تب تک نہ جانا جب تک میں آپ کو نہ کہوں۔ پہلے مجھے اقوام متحدہ جا کر کشمیریوں کا کیس لڑنے دو۔ دنیا کو بتانے دو کہ اگر مسٔلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو اس کا اثر ساری دنیا پر پڑے گا.

وزیراعظم کی تقریر کے دوران جلسہ گاہ میں عمران خان ، پاک فوج، اور کشمیریوں کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ جبکہ مودی اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ لوگ کافی پرجوش نظر آئے۔

 

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers