بین الاقوامی

امریکی سینیٹرز کا ٹرمپ سے مودی پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کے حقوق کے لیے امریکی سینیٹرز بھی بول پڑے۔ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو خط ۔ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین خالف ورزیوں پر اظہار تشویش۔ کرفیو ہٹانے اور زیر حراست کشمیریوں کو فوری رہا کروانے کا مطالبہ۔

ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں لگائے گئے کرفیو کے خلاف خط سینیٹرز کرس سین ہولن، لنزے گراہم، بن یامین ایل کارڈن اور ٹاڈ ینگ نے لکھا ہے۔ جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حالات اور امن کیلئے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں سینیٹرز نے لکھا ہے کہ کشمیری عوام  مشکل  صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارت پر مواصلاتی رابطہ، انٹرنیٹ بحال کرنے کیلئے دباؤ بڑھایا جائے۔

امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اس موجودہ صورتحال پر فوری ایکشن لیں اور نریندر مودی سے ملاقات بھی کریں۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والے انسانیالمیے کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات  لیں۔

امریکی کانگریس رکن ایرک سالویل نے بھی ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کو فوری بحال کرنا ہوگا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے مقبوضہ وادی میں شہریوں کو ریلیف مل سکتا ہے اور بھارت کرفیو کو ختم کر سکتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب اور وہاں کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اسے کم کیا جائے۔ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جاری اس مسئلے کو حل کرنے میں امریکا تعمیری اور ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکی سینیٹرز کا خط میں مزید کہنا تھا کہ بھارت سے فوری مطالبہ کیا جائے کہ وہ کرفیو ہٹائے، مواصلات کا نظام بحال کرے۔ اور کشمیری قیدیوں کو فوری رہا بھی کرے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers