انٹرٹینمنٹقومی

پاکستانی فلم لال کبوتر کو آسکر کے لیے نامزد کر لیا گیا

کراچی میں بسنے والے دو طبقات کے گرد گھومتی کہانی آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد۔ لال کبوتر بڑے فلمی میلے میں لگے گی۔ فلم میں منشاء پاشا اور احمد علی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

22 مارچ 2019 مین ریلیز کی جانے والی فلم کو پاکستان کی جانب سے فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ آسکر کے لیے نامزد کر لیا گیا ہے۔ فلم کی کہانی کراچی میں بسنے والے دو طبقات کے گرد گھومتی ہے۔

مرکزی کردار میں اداکار احمد علی بطور ٹیکسی ڈرائیور رونماہ ہوئے ہیں جبکہ اداکارہ منشاہ پاشا بھی اس فلم میں اپنی اداکاری کے جوہربکھیرتی نظر آئیں۔ فلم میں علی کاظمی، سلیم میراج اور دیگر نامور اداکاروں نے بھی کام کیا ہے۔

فلم کے چناؤ پر منشاء پاشا نے ٹویٹر پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  فلم لال کبوتر میرے 6 سالہ کیرئیر کا سب سے بہترین پراجیکٹ تھا۔ لال کبوتر ایک ایسا تحفہ ہے جو نوازتا رہتا ہے اور واقعتاً اپنی قسم میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اللہ کا شکر بھی ادا کیا اور پوری فلم کی ٹیم کو مبارکباد بھی دی۔

 

فلم کے چناؤ کا اعلان ٹویٹر پہ فلم کے اوفیشل اکاؤنٹ نے بھی کیا۔

 

 

فلم کو آسکر کیلئے بھجنے کا انتخاب فلمساز شرمین عبید کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے کیا ہے۔ کمیٹی میں موجود اداکاروں میں زیبا بختیار اور سرمد کھوسٹ، ماڈل صنم سعید، فیشن ڈیزائنر رضوان بیگ، اور صحافی ہمنا زبیر شامل تھے۔

فلم کو 92 ویں اکیڈمی ایوارڈ کے لئے ’انٹرنیشنل فیچر فلم ایوارڈ میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا انعقاد 9 فروری 2020 کو کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ہوگا۔

 

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers