بین الاقوامی

امریکہ، روس اور چین مسٔلہ کشمیر میں فوری مداخلت کریں: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا تین بڑی طاقتوں پر مسٔلہ کشمیر حل کرانے پر زور۔ روسی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ امریکہ، روس اور چین معاملے میں فوری مداخلت کریں اور معاملے کو حل کروانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی ذی شعور ایٹمی جنگ نہیں چاہتا، ایسی جنگ کوئی نہیں جیتتا۔

وزیراعظم عمران خان نے روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذی شعور شخص ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا۔ دنیا کو پاک بھارت جنگ کا نقصان ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ کشمیر کی تباہ کن صورتحال کے جنوب ایشیا سے بھی بہت دور تک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

وزیراعظم نے انٹرویو میں کہا کہ کیوبا بحران کے بعد یہ پہلی دفع ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حامل دو ملک آمنے سامنے ہیں۔ اگر پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو تصور سے بالاتر نتائج نکلیں گے۔ اس سے بچنے کے لیے عالمی برداری کردار ادا کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری بھارت پر پابندی لگائے۔ ان کی تجارت روکے۔ مگر کچھ عالمی طاقتیں تجارتی فوائد کو انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم سمجھتی ہیں۔ اس طرح نظر انداز کردینے سے معاملہ ٹلے گا نہیں۔ امریکہ، روس اور چین اس معاملے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ امریکہ اقوام متحدہ پر زور ڈالے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت شدت پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ یہ انتہا پسندانہ سوچ پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ یہ اب نہرو اور گاندھی کا بھارت نہیں۔

اقوام متحدہ کے حوالے سے بولے کہ اقوام متحدہ اسی طرح کے بحرانوں کے حل کے لیے بنائی گئی تھی۔ اب صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ یہ عمل کرنے کا وقت ہے۔ آرایس ایس وہ جماعت ہے جو عالمی قوانین کو نہیں مانتی۔ اس پر بھارت میں 3 بار پابندی بھی لگائی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی آرایس ایس کے نظریے سےتعلق رکھتا ہے۔ گجرات میں جو کیا گیا وہ بھی اسی نظریے کے تحت ہوا تھا۔ مجھے لگتا ہے پاکستان کو بھارت سے خطرہ ہے۔ بھارت دنیا کی کشمیرسے توجہ ہٹانے کے لیے جعلی آپریشن کرسکتا ہے اورحسب روایت جعلی آپریشن کا پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔
اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers