بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 42 دن ہو گئے

بھارتی مظالم کی آگ میں 42 روز سے سلگتی انگار وادی۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے اپنے پیاروں سے بے خبر۔ شوپیاں میں رہائشی کو سری نگر میں اپنے والد کے انتقال کی خبر تک نہ ملی۔ آخری دیدار کو ترستی بیٹی نے کہا کہ تمام عمر اس باپ کا افسوس رہے گا۔ وادی میں اشیاء خوردونوش کا سنگین بحران۔

آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 42 واں روز ہے۔ مظلوم کشمیری پطھلے 42 روز سے بھارتی جبر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

گھروں میں محصور افراد کو اپنے وفات پانے والے رشتے داروں کے جنازے پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ شوپیاں میں رہائشی کو سری نگر میں اپنے والد کے انتقال کی خبر تک نہ ملی۔ لوگ کئی کئی روز بعد اپنے رشتوں داروں کے موت کی اطلاع ملنے کے بعد افسوس کے لیے پہنچ پاتے ہیں

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری بے بسی کی تصویربن گئے۔ دودھ کے لیے بلکتے بچے، دوا کے لیے ترستے بیمار عالمی برادری کی توجہ کے طالب۔

امریکی خارجہ امور کمیٹی کے رکن بریڈ شرمین نے ٹویٹ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس جلد ہو گا جس میں کشمیر میں شہری آزادی اور نظام مواصلات کی بحالی پر سماعت کی جائے گی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی کی نشریات روزانہ کی بنیاد پر بند ہیں جبکہ حریت رہنما اور سیاسی رہنماؤں کو بھی گھروں یا جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق زرائع ابلاغ کے نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کرفیوکے باوجود بھی سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے۔ جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے ہیں۔

کشمیر میڈیا کی تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے کچھ خاص علاقوں میں سکول کھلنے کے باوجود خالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بھی بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کردیا۔

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers