بین الاقوامی

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کا ذمےدار ٹھہرا دیا

امریکی صدر نے سعودی عرب میں حملے کا ذمےدار ایران کو ٹھہرا دیا۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو جانتے ہیں۔ ہمارے نشانے اور ہتھیار تیار ہیں مگر سعودی عرب سے سننا چاہتے ہیں کہ وہ کس کو ذمےدار ٹھہراتا ہے اور ہمیں کس رخ آگے بڑھنا ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی ریفائنریز پر حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی سپلائی پر حملہ ہوا۔ اس بات پر یقین کرنے کی وجہ ہے کہ ہم مجرم کو جانتے ہیں۔ ہم نشانہ اور ہتھیار بند ہیں لیکن تصدیق پر منحصر ہے۔

لیکن ہم سعودی مملکت سے یہ سننے کے منتظر ہیں کہ ان کے خیال میں اس حملے کا ذمےدار کون ہے اور ہم کس شرائط کے تحت آگے بڑھیں گے

ایک اور ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پرحملوں کے بعد پوری دنیا میں قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مارکیٹ میں تیل کی سپلائی جاری رکھنے کیلئے ایمرجنسی ذخائر استعمال کیے جائیں۔

ٹیکساس اور دیگر ریاستوں میں تیل کی پائپ لائن کی منظوری کا معاملہ جلد نمٹایا جائے۔ تیل کی ضرورت پوری کرنے کیلئے میں نے محفوظ ذخائر کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب ایران نے صدر ٹرمپ کے بیان کی تردید کر دی ہے۔ اس الزام کو بلاجواز قرار دے دیا۔ ایرانی صدر حسن روحانی کہتے ہیں کہ خطے میں بحران کے پیچھے امریکہ کی سازش ہے۔

ترجمان ایرانی دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے الزامات کسی ملک کو بدنام کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ اور مستقبل میں کارروائی کے لیے راستے بنانے کے لیے گڑھے جاتے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 2 روز قبل سعودی عرب میں 2 آئل فیکٹریز میں ڈرون حملوں کے بعد آگ لگ گئی تھی۔
سعودی میڈیا کے مطابق ایک ڈرون حملہ آرمکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق جبکہ دوسرا ڈرون حملہ مغربی آئل فیلڈ خریص پر کیا گیا تھا۔ اس نتیجے میں دونوں آئل فیلڈز پر لگنے والی آگ پر اب قابو پا لیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا تھا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers