قومی

ملک بھر میں ڈینگی سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ

راولپنڈی اسلام آباد میں ڈینگی کے جان لیوہ حملے۔ آج مزید  4 جانیں چلیں گئیں۔ جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی۔ جڑوا شہروں میں ڈینگی بخار کے افراد کی تعداد 3 ہزار سے بڑھ گئی۔ ملتان میں ڈینگی ایمرجنسی ڈکلئیر۔ خیبر پختونخواہ میں بھی 54 کیسز کی تصدیق۔ 1200 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے جانلیوہ حملے جاری ہیں۔ ایک روز میں 4 مریض دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والے تین مریض ہولی فیملی جبکہ ایک بےنظیر بھٹو ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ ایک ہفتے میں ڈینگی سے جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی۔

24 گھنٹوں میں 148 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ 3 ہزار سے زائد مریض زیر علاج ہیں۔ پنجاب حکومت قاتل مچھر کے سامنے بے بس ہو گئی۔ حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل رہا۔

ڈینگی کی وجہ سے آج صبح دو اور مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں جن میں 27 سالہ صوبیا اور 38 سالہ عمیر شامل ہیں۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ڈینگے سے بچاؤ کے لیے ٹائر برتن اور دیگر اشیاء وغیرہ میں پانی رکھنے کی پابندی بھی عائد کی ہے۔

اس کے علاوہ ملتان میں بھی  ڈینگی ایمرجنسی ڈکلئیر کر دی گئی ہے۔ اور خیبر پختونخواہ میں بھی 54 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے ۔ وہاں تقریباً 1200 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

شہریوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اختاطی تدابیریں استعمال کریں۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی ڈینگی کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

شہروں کے ہسپتالوں میں بستروں کی کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باعث ڈاکٹر بعض مریضوں کو بس دوائی دے کر ہی گھر واپس بھیج رہے ہیں۔

ڈینگی کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے شہری کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ جبکہ پنجاب حکومت ڈینگی مارنے کے بجائے ڈینگیں مارنے لگی ہے۔ اقدامات صفر ہیں لیکن بیانات کی بھرمار ہے۔

وزیر صحت یاسمین راشد سے پوچھیں تو کیسے؟ نہ ہی وہ فون اٹھا رہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ان سے رابطہ ہو پا رہا ہے۔ جبکہ ان کے پی اے کا کہنا ہے کی میڈم مصروف ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers