بین الاقوامی

بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو کرفیو اٹھانے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کو حالات معمول پہ لانے کا حکم۔ کانگریس رہنماء غلام نبی آزاد کو بھی سری نگر کے دورے کی اجازت مل گئی۔ بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر کے مکینوں کا صبر آزماتے 43واں روز وادی میں مظاہرے معمول بن گئے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت میں عدالت نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے معمول جلد سے جلد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھارت اور جموں و کشمیر کی حکومتوں کو آرٹيکل 370 سے متعلق حلف نامہ بھی پيش کرنے کا حکم دے دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور کرفیو کے معاملے کو جموں اور کشمیر کی ہائی کورٹ کے ذریعے سے بھی ڈیل کیا جا سکتا تھا۔ حکومت کو ہر اقدام لینے سے پہلے ملکی مفاد کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما اور اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو بھی مقبوضہ کشمیرجانے کی اجازت دے دی اور کہا کہ کا غلام نبی آزاد سری نگر اوربارہ مولا سمیت دیگرعلاقوں میں بھی  جا سکتے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہے۔

کشمیریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ تعلیمی اداروں کو بھی کھولا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers