قومی

سندھ میں بھٹو زندہ ہے لیکن بھٹو کے شہر کا میر حسن چل بسا

سندھ میں بھٹو زندہ ہے، میر حسن مر گیا۔ 10 سال کے بچے کو کتے نے کاٹا۔

ہسپتال میں ویکسین نہ ملی۔ کمشنر آفس میں تڑپتا رہا، ایڑیاں رگڑتا رہا۔ پھر ماں کی گود میں ہی جان دے دی۔

پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں زندگی سسک سسک کر دم توڑ گئی۔ کتے کے کاٹنے کے بعد ویکسین نہ ملنے پر ایک اور جان چلی گئی۔

میر حسن نامی بچے نے تڑپ تڑپ کر زمین پر ہی جان دے دی۔ ورثا بے مددگار زاروقطار روتے رہے۔

شکارپور کے گاؤں داؤد ابرو کے ایک محنت کش کے بیٹے میر حسن کو ویکسین نہ مل سکی۔ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ اپنے بچے کو لیکر شکار پور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گیا مگر داد رسی بھی نہ مل سکی۔

اے آر وی سنٹر کے ڈاکٹر نورالدین قاضی نے اعتراف کیا کہ پورے لاڑکانہ ڈیویژن میں ریبیز کی ویکسین کی کمی ہے۔ اثر احن کے دماغ تک ہو چکا تھا جس کی وجہ سے اس کی حالت تشویشناک ہو چکی تھی۔ ریبیز کی ویکسین بروقت نہ ملنے سے مرض بڑھ گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سندھ میں ایورپ جیسی سہولیات فرہم کر دی ہیں، مگر عالم یہ ہے کہ ایک کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک موجود نہیں۔

جاں بحق بچے کا والدین اسے تحصیل ہسپتال لے کر گئے جہاں ڈاکٹر نے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ والدین ڈاکٹر کے کہنے پر بچے کو گھر لے گئے مگر بچے کی حالت مزید بگڑھ گئی۔ والدین بچے کو دوبارہ ہسپتال لے کر گئے مگر ویکسین نہ ملی۔ اس کے بعد والدین اس کو شکار پور کے ہسپتال میں لے گئے مگر وہاں بھی ان کو ویکسین دستیاب نہ ہوئی۔ جب وہ بےیارو مددگار بچے کو لاڑکانہ کے ہسپتال میں لے گئے تو ان کو کہا گیا کہ ویکسین کمشنر آفس میں ملتی ہے۔

جب ماں باپ کمشنر آفس لے کر گئے تو انہیں کہا گیا کہ یہاں ویکسین موجود نہیں بچے کو کراچی لے کر جایا جائے۔ مزدور باپ وسائل کی کمی کے باعث وہی بیٹھا رہا اور بچے نے ماں باپ کے سامنے بروقت ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ دیا۔

اس معاملے پر فنکشنل لیگ کی رہنماء نصرت سحر عباسی نے آپ نوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو رتی بھر بھی احساس نہیں ہوتا کہ جہاں سے وہ 11 سالوں سے ووٹ لے کر آ رہے ہیں وہاں کے لوگوں کو ویکسین تک میّسر نہیں۔

مزید کہا کہ لاڑکانہ سے منتخب ہونے والے اس ضلعے کو اس قابل نہیں کر سکے جہاں لوگوں کو ایسی چیزیں مہیا ہوں۔ کہا کہ آج پوری دنیا کو یہ تصویر سکھائی گئی ہے کہ دیکھو!  یہاں بھٹو زندہ ہے مگر سندھ کا ہر بچہ مر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اپنی پھوپھی جن کو ہیلتھ منسٹر بنایا گیا ہے ان سے سوال کریں کہ اس مجرمانہ فعل کا ذمےدار کون ہے۔

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers