قومی

مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع

مریم نواز 25 ستمبر تک نیب کی تحویل میں رہیں گی۔ ن لیگی رہنماء کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع۔ زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی توسیع۔ 2 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم۔

چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت لاہور کی احتساب عدالت میں ہوئی۔  نیب حکام نے  مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں جج امیر محمد خان کے سامنے پیش کیا۔

نیب کے وکیل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری شوگر مل لگوانے کے لیے شریف فیملی نے مختلف جگہوں سے قرضہ لیا۔ ای ایف ایف انٹر پرائزز نامی کمپنی سے 3 کروڑ روپے اور پنجاب کار پیٹس نامی کمپنی سے 1 کروڑ روپے کے قر‏‏ضے لئے گئے۔

تمام کمپنیوں سے لون کا ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان سے بھی ریکارڈ منگوا رکھا ہے۔

نیب حکام نے مزید کہا کہ میاں شریف، کلثوم نواز، حسین نواز، مریم نواز سمیت شریف فیملی کے دیگر افراد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی فہرست میں شامل تھے۔ مریم نواز 1992 میں چیف ایگزیکٹو تھیں۔

لہذا ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 15 دن کی توسیع کی جائے۔

اپنے مؤکل کے دفاع میں جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مریم نواز کے وکیل  امجد پرویز نے کہا کہ تفتیشی رپورٹ حقائق کے نفی ہے۔ 1992 میں تمام جائیدادیں میری مؤکل کے دادا میاں شریف کے نام پر تھیں۔ 1992 سے 1999 تک میاں شریف نے جائیداد بچوں کے نام کردی۔ مریم نواز کو سیاسی بنیادوں کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد مریم نواز اور یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کر دی۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نے حمزہ شہباز کو پیش کیا۔

نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ  رمضان شوگر ملز ریفرنس میں ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ جس پر عدالت نے نیب کو اپنی تفتیش مکمل کر کے اس کی تمام رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے انہیں 2 اکتوبر تک نیب کے حوالے کر دیا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers