قومی

جو مرضی ہو جائے این آر او نہیں دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ان کو این آر او دیا جائے لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جو مرضی ہو جائے این آر او نہیں دیں گے۔ ملک میں مہنگائی اور روپے کی کمی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے طور خم میں افغان بارڈر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں قوم کو واضح کرتا ہوں کہ جو مرضی ہوجائے کسی کو این آراو نہیں دیں گے۔ ملک پر قرضہ چڑھانے والوں کی وجہ سے آج مہنگائی کا سامنا ہے۔

اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور روپے کی کمی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ اگر منی لانڈرنگ کرنیوالوں کا احتساب نہیں ہوگا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ ہم نے تو اداروں کو آزاد کیا ہے کسی کو تحفظ نہیں دیا۔

پاک افغان بارڈر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے خطے میں ترقی ہوگی طورخم بارڈر سے افغان عوام کی معاشی حالت بدلے گی۔ پشاور پاکستان کا تجارتی حب بنے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا۔ وسطی ایشیاء کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کے خواہشمند ہیں۔ افغانستان میں امن ہوگا تو علاقے میں خوشحالی آئے گی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی۔

امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بولے کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے۔ ہم بات چیت کو آگے بڑھانے کی پوری کوشش کریں گے۔

معاہدہ سائن ہونے ہی والا تھا، میری کوشش تھی کہ اس کے بعد افغان حکومت ان کو اپنے ساتھ بٹھاتے۔ افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے۔

مسٔلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمير کا کيس ايسے پيش کروں گا کہ پہلے کبھی کسی نے نہ کیا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80 لاکھ لوگوں کو محصور کررکھا ہے۔ بھارت کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان پر آر ایس ایس کا قبضہ ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو ہندوستان ميں انسان نہيں سمجھا جاتا۔

کوئی انتہا پسند زہن ہی 45 دن تک کرفیو لگا سکتا ہے۔ آرایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری پڑی ہے۔ اگر کوئی کشمیرمیں داخل ہوا تو وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا۔ اس سے بھارت کو پاکستان میں دہشتگرد بھیجنے کا موقع مل جائے گا۔

گھوٹکی میں پیش آئے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں خطاب کے موقع پر گھوٹکی کا واقعہ پیش آیا اور یہ میرے دورہ امریکا کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

بولے کہ افغان امریکہ مذاکرات بحال نہ ہونا بہت بڑی ٹریجڈی ہو گی۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات پر مذاکرات دوبارہ بحال کرنے پر زور دونگا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers