قومی

خورشید شاہ 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اثاثہ جات کیس میں گرفتار خورشید شاہ کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور۔ نیب کی ٹیم نے 15 روز کے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ نیب کورٹ سکھر کے باہر جیالوں کی بڑی تعداد موجود۔ خورشید شاہ کو لانے والی گاڑی کا گھیراؤ۔ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں گرفتار پیپلز پارٹی رہنماء خورشید شاہ کو نیب حکام کی جانب سے سکھر کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج امیر علی مہیسر نے کیس کی سماعت کی۔

نیب کے وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ پر آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے کے الزام میں انکوائری شروع کی ہے۔ خورشید شاہ انکوائری میں نیب سے تعاون نہیں کر رہے۔ نیب سے تعاون نہ کرنے پر خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا۔ مزید کہا کہ نیب نے خورشید شاہ کو خط بھی لکھے مگر ان کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا۔

خورشید شاہ کے وکیل نے ان کی صفائی میں کہا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ سب سکھر کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔

2014 میں بھی نیب نے انہی الزامات کے تحت انکوائری کی تھی مگر ہائی کورٹ کے حکم کے بعد کیس ختم کر دیا گیا تھا۔

نیب حکام کی جانب سے خورشید شاہ کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ لیکن  گرفتاری کے کاغذات نہ لانے کے باعث عدالت نے صرف 9 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔

ذرائع کے مطابق نیب سکھر آفس کی جانب سے خورشید شاہ کے لیے علیحدہ سیل تیار کیا گیا۔ انہیں سیل میں اٹیچ باتھ اور ایئر کنڈیشن کی سہولت بھی دی گئی ہے۔

خورشید شاہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں لایا گیا۔ اس موقع پر جیالوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی۔ انہوں نے خورشید شاہ کو لانے والی گاڑی کا گھیراؤ بھی کیا، پولیس اہلکاروں سے دھکم پیل بھی ہوئی اور ان کی جانب سے حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی گئی۔

عدالت نے ملزم خورشید شاہ کو گھر سے کھانا منگوانے اور فیملی سے ملاقات کی بھی اجازت دے دی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ دو روز قبل عدالت میں نیب کی جانب سے 7 روزہ راہداری ریمانڈ کی درخواست کی گئی تھی۔ مگر عدالت نے خورشید شاہ کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ دے کر نیب کو انہیں فوری سکھر کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

3 روز قبل نیب سکھر نے خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا تھا۔ خورشید شاہ بنی گالہ میں اپنے دوست کے گھر موجود تھے۔

رہنماء پیپلز پارٹی اور سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ پر غیر قانونی طور پر جائیدادیں اپنے نام کروانے، ہوٹل، پٹرول پمپ اور بنگلے اور اس طرح کی بے نامی جائیدادیں بنانے کا الزام ہے۔

آپ نیوز نے خورشید شاہ کی جائیدادوں کی تفصیل حاصل کر لی۔ خورشید شاہ اور ان کے خاندان کے مختلف شہروں میں 105 اکاؤنٹس ہیں۔ خورشید شاہ نے فرنٹ میین کے نام پر تراسی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ خورشید شاہ پر 500 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔

 

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers