قومی

مریم نواز 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر نیب کے حوالے

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، مریم نواز اور یوسف عباس 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل منتقل۔ مریم نواز کی واپسی پر لیگی کارکنوں کی ہنگامہ آرائی۔ عدالت کا دروازہ ٹوٹ گیا۔

لاہور کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزمہ مریم نواز اور ملزم یوسف عباس کو نیب حکام کی جانب سے جج امیر خان کے روبرو کیا گیا۔

نیب کے وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1998ء میں 16 کروڑ روپے ملزمہ کو ملے۔ رقم بھجوانے والی خاتون کا ملزمہ سے کوئی تعلق واضح نہیں۔ تفتیش میں مریم صفدر اور یوسف عباس کے خاندان کی جائیداد کی تقسیم کے معاہدے کا انکشاف ہوا ہے۔ کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے 1 کروڑ 45 لاکھ 58 ہزار 96 شیئرز میاں نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، بہن کوثر اور والدہ شمیم بیگم میں تقسیم ہوئے۔

مزید کہا کہ ایس ای سی پی ریکارڈ کے مطابق 2008 میں 2 کروڑ 62 لاکھ شیئرز چوہدری شوگر ملز کے تھے لیکن دوران تفتیش 1 کروڑ 16 لاکھ 96 ہزار شیئرز کا فرق آیا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر بولے کہ 3 غیر ملکیوں نے 2008 میں مریم کے نام پر شیئرز بھجوائے جب کہ 48 لاکھ ڈالرز یوسف عباس کو ٹیلی گرافک ٹرانسفر کئے گئے۔

ملزمان سے مزید تفتیش درکار ہے اس لیے ان کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ جب چوہدری شوگر ملز بنی اس وقت مریم نواز اور یوسف عباس کم عمر تھے۔ تمام شریف فیملی چوہدری شوگر ملز میں شئیر ہولڈرز تھی۔

مزید کہا کہ شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق تفتيش نيب کا دائرہ اختيار نہيں بلکہ يہ ایس ای سی پی کا کام ہے۔ 2016 سے نواز شریف فیملی کا چوہدری شوگر ملز میں کوئی شیئر نہیں ہے۔ جو ریکارڈ نیب کو چاہیے تھا ہم نے وہ فراہم کر دیا ہے۔ جسمانی ریمانڈ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا رد کی جائے۔

سماعت کے دوران نیب پراسکیوٹر اور مریم کے وکیل آپس میں الجھ پڑے۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی استدعا رد کر کے ملزمان کو 9 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ذرائع کے مطابق مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ کھانا باہر رکھ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ خود اٹھا لیں۔ مریم نواز کے کمرے سے تعفن اٹھتا ہے۔ کئی کئی روز تک صفائی نہیں کروائی جاتی۔

مریم نواز کی واپسی پر لیگی کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی بھی ہوئی جس کے باعث عدالت کا دروازہ بھی ٹوٹ گیا۔ احتساب عدالت میں ملزمان کی پیشی کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

جوڈیشل کمپلیکس کے اطرف انے والے راستوں کو خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا تھا۔ خواتین اہلکار بھی خاصی تعداد میں موجود تھیں

آپ کو بتاتے چلیں کہ 8 اگست کو مریم نواز اپنے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت پہنچیں تھیں۔ جہاں سے نیب حکام نے انہیں اپنی حراست میں لیا۔ نیب کی ٹیم چار گاڑیوں کے ساتھ دو راستوں سے پہنچی تھی۔ ایک راستے سے لیڈیز پولیس اہلکار اور دوسرے سے مرد پولیس حکام جیل پہنچے۔ نیب اہلکار مریم نواز کو لے کر روانہ ہوگئے تھے۔

تب سے لے کر اب تک دونوں ملزمان متعدد پیشیاں بھگت چکے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers