انٹرٹینمنٹقومی

محسن عباس اور فاطمہ سہیل کے راستے جدا ہو گئے

گلوکار محسن عباس اور فاطمہ سہیل کے راستے جدا ہو گئے۔ لاہور کی فیملی عدالت نے فاطمہ سہیل کے بیان کے بعد خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ ماڈل نے کہا کہ شوہر کے ساتھ گزارا کرنا مشکل ہے۔ بیٹا جان سے پیارا ہے، خود پرورش کروں گی۔

لاہور کی فیملی عدالت نے فاطمہ سہیل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ جج بابر ندیم نے درخواست کی سماعت کی۔

فاطمہ سہیل کا کہنا تھا کہ ان کا شوہر کے ساتھ اب گزارا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے وہ صلح نہیں کر سکتیں۔

بیٹے کے حوالے سے ان کہا تھا کہ بیٹا جان سے پیارا ہے۔ اس کی میں خود پرورش کروں گی۔

دوسری جانب محسن عباس حیدر کا کہنا تھا کہ بچے کو ماں اور باپ دونوں کے پیار کی ضرورت ہے لیکن وہ اس بارے میں قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

دوسری شادی کے سوال پر محسن کا کہنا تھا کہ ابھی میں صرف سکون چاہتا ہوں۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ خلع کی ڈگری کے بعد دونوں کا ازدواجی رشتہ اب اختتام پذیر ہو گیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ فاطمہ سہیل نے  خلع کی درخواست میں محسن عباس حیدر کی جانب سے گھریلو زیادتی اور بے وفائی کا حوالہ دیا تھا۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ اداکار کی اہلیہ فاطمہ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ زبانی اور جسمانی تشدد بہت سہہ لیا۔ طلاق کی دھمکیاں بھی بہت برداشت کر لیں، سچ بتا دیا، ثبوت بھی پیش کر دیئے، اب محسن عباس سے عدالت میں ملاقات ہوگی۔

محسن عباس نے اہلیہ کی جانب سے اپنے اوپر لگے الزامات سے متعلق کہا تھا کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی ہم دونوں کو احساس ہوگیا تھا کہ یہ شادی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ شادی کے چند روز بعد ہی ان کے جھوٹ سامنے آنے لگ گئے تھے۔ ایسے جھوٹ بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ مجھے کہیں کا بتا کر کہیں اور چلی جایا کرتی تھیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers