بین الاقوامیقومی

وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی میں خطاب

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس فورم پر پاکستان کی نمائندگیکرنا فخر کی بات ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے پہلے نقطے میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا پاکستان پر بہت برا اثر ہوا ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلوں سے سب سے متاثر شدہ 10 ممالک میں شامل ہے۔

کہا کہ ماحولیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہماری حکومت نے پانچ سالوں میں دس ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا ہے۔ بولے کہ پاکستان کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ ہمارا ایک زرعی ملک ہے جو اس وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔ اس حوالے ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا۔ پوری دنیا کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ امید ہے اقوام متحدہ اس پہ غور کرے گی۔

اپنے خطاب کے دوسرے نقطے میں انہوں نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے کہا کہ ہرسال غریب ممالک کے اربوں ڈالرز امیر ممالک کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ نام نہاد اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے رقوم امیر ملکوں کو منتقل ہو رہیں ہیں۔ یہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے تباہ کن ہے۔ ہم انسانوں پر کیسے پیسہ خرچ کریں گے۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کا قرضہ 10 سالوں میں چار گنا بڑھ گیا۔ جس کی وجہ سے ہمارے ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔

بولے کہ ہمیں ملک سے لوٹی گئی گئی رقم واپس لانے کیلئے مشکلات کا سامنا ہے۔ امیر ممالک کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ بولے کہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے المیے پیدا ہوتے ہیں۔امیر ملک بتائیں ان کے پاس ٹیکس چوری کی جنتیں کیوں قائم ہیں۔ امید ہے اس حوالے اقوام متحدہ کچھ اقدامات کرے گی۔

اپنی تقریر کے تیسرے ایجنڈے اسلاموفوبیا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا شدید رفتار سے بڑھا اور یہ اضافہ خطرناک ہے۔ کچھ مغربی لیڈروں نے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑا جبکہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صرف ایک اسلام ہے جو حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ اسلاموفوبیا سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اور صورت حال بدترین ہورہی ہے۔ مغرب میں حجاب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ افسوس سے مسلم ممالک کے سربراہان نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا۔

بولے کہ مغربی لوگوں کو اس حوالے سے سمجھ نہیں آتا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہین مسلمانوں کیلئے بہت بڑ ا مسئلہ ہے۔ اسلام کی توہین پر مسلمانوں کا ردعمل آتا ہے تو انھیں انتہا پسند کہا جاتا ہے۔ پیغمبرﷺ کی توہین مسلمانوں کیلیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ قانون کے  سامنے سب برابر ہیں۔

بولے کہ اقلیت سے اچھا سلوک نہ کرنا اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نبیﷺ کی عزت کی جائے۔ تامل ٹائیگرز ہندو تھے تاہم کسی نے ہندو ازم کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا۔

اپنی تقریر کے آخری اور اہم نقطے میں انہوں نے نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی سمجھتا ہے کہ کرفیو کے بعد کشمیری خاموشی سے اسے قبول کرلیں گے۔ نریندر مودی کے غرور نے اس کو اندھا کر رکھا ہے۔ میں اقوام متحدہ میں کشمیر کے لئے آیا ہوں۔ میرا یہاں آنے کا اہم مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتانا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ پیلٹ گنز کے ذریعے نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے۔ بھارت کے لیے اب کوئی بیانیہ نہیں ہے۔

انہون نے مزید کہا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی۔ مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی نفری تعینات کی اور کرفیو لگا کر 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کردیا ہے۔ 30 سالوں میں 1 لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج تعنیات ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے ایک لاکھ کشمیریوں سے زائد کو قتل اور 11 ہزار سے زائد خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جب ناانصافی ہوتی ہے تو انسان انتہا پسندانا قدم اٹھاتا ہے۔ ناانصافی کے خلاف انسانی ردعمل کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا۔ کرفیو پہ کشمیریوں کے ردعمل پر ان کے قتل عام کا خدشہ ہے۔ اگر 80 لاکھ جانوروں کو ایسے قید کیا جاتا تو دنیا میں شور مچ جاتا۔

بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کوایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کرنیکی سازش کررہا ہے۔ مودی کی الیکشن مہم میں کہاگیا کہ یہ ٹریلر ہے مووی ابھی باقی ہے۔ آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جو ہٹلر اور مسولینی سے متاثر ہے۔ آر ایس ایس نسل پرستی اور آریہ سماج پر یقین رکھتی ہے۔ میں نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت سے مذاکرات کی بات کی۔ مودی کو بتایا کہ ہمارے مشترکہ چیلنجز ہیں لیکن بھارت نے مذاکرات کی پیش کش ٹھکرادی۔ پلوامہ واقعے کا ذمےدار پاکستان کو ٹھہرایا۔ انہوں نے ہمارے ملک جہاز بھیجے ہم نے ان کے جہاز گرائے اور امن کے لیے ان کا پائلٹ بھی واپس کیا۔

کہا کہ بھارتی حکام ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم 5 سو دہشت گرد بھیجیں گے، نو لاکھ فوج کے آگے پانچ سو بندے کیا کریں گے۔ کلبھوشن ياديو نے پاکستان ميں دہشت گردی کا اعتراف کيا ہے۔ ہم نے مودی سے کہا کہ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن ياديو پکڑا ہے۔

مزید کہا کہ بھارت دہشت گردی کا جھوٹا نعرہ لگا کر انسانی حقوق پامال کررہا ہے۔ بھارتی مظالم کے سبب جب کوئی واقعہ ہوگا تو بھارت پھر اس کا الزام پاکستان پرلگائے گا۔ مودی نے آرایس ایس کے نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلموں کا قتل عام کیا۔

بولے کہ اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانا پڑے گا۔ بہت نازک وقت ہے۔ اگر کچھ نہ کیا گیا تو دو نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی۔
بولے کہ کيا ميں کشمير ميں ہونیوالے ظلم پر خاموش رہوں؟ دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی مارکیٹ ہے۔
میرا اللہ ایک ہے۔ میں ظلم کے خلاف لڑتا رہوں گا۔ دنیا کو ایک ارب کی مارکیٹ یا حق و انصاف میں سے کسی ایک کو چننا پڑے گا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers