قومی

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی کامیابی کالعدم قرار

حلقہ این اے 265 میں 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہ ہوسکی۔ الیکشن کمیشن نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ قاسم سوری کی کامیابی کالعدم قرار۔ حلقے میں دوبارہ انتخابات کرنے کا حکم۔ بی این پی کے لشکری رئیسانی نے قاسم سوری کی کامیابی چیلنج کی تھی۔

الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے منتخب قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دے کرحلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے بی این پی کے لشکر رئیسانی کی دی ہوئی درخواست پر سماعت کی تھی۔

سماعت میں یہ ثابت ہوا کہ الیکشن ٹریبونل کے احکامات پر نادرا کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 265 کے 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سنگین بے قاعدگیوں اور بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے 29 جون کو نادرا کو لشکری رئیسانی کی درخواست پر ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا تھا۔

فیصلہ 14 ستمبر کو محفوظ کیا گیا تھا جسے آج بروز جمعہ سنایا گیا۔

عدالت نے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیتے ہوئے حلقہ این اے 265 سے کامیاب ہونے والے قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کو کالعدم قرار دے دیا۔ وہ اب اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔

دوسری جانب لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ این اے 265 پر دوبارہ الیکشن کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ یہ ہمارے مؤقف کی جیت ہے۔ انتخابات میں دوبارہ حصہ لیکر کامیابی حاصل کریں گے۔

لشکر رئیسانی ان 5 امیدواروں میں سے ایک تھے جنہوں نے 2018 الیکشن میں این اے 265 سے الیکشن لڑا تھا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ قاسم سوری نے عام انتخابات 2018 میں بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 265 کوئٹہ 2 سے ایلکشن لڑا تھا۔ الیکشن میں وہ کامیاب قرار پائے اور بعد میں وہ قومی اسمبلی میں بطور ڈپٹی اسپیکر بھی منتخب ہوئے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers