بین الاقوامی

امریکہ کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کا مطالبہ

پاکستان کی کوششیں رنگ لانے لگیں۔ امریکہ کا مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹانے کا مطالبہ۔ اسٹیٹ سیکرٹری ایلس ویلز کہتی ہیں کہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی اور گرفتاریوں پر شدید تحفطات ہیں۔ بھارت زیر حراست افراد رہا کرے اور مذاکرات سے مسائل حل کرے تا کہ کشیدگی کم ہو۔

امریکی نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر میں وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور پابندیوں پر امریکا کو تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر لگائی گئی پابندیاں فوری طور پر ہٹائی جائیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ بھارت کشمیر میں لگائی گئی پابندیوں میں جلد نرمی کرے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت حراست میں لیے تمام افراد کو رہا کرے۔  کہنا تھا  کہ ہم امید کرتے ہیں کہ کشمیر میں جلد از جلد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ اگر دونوں فریقین چاہیں تو صدر ٹرمپ ثالثی کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت طویل عرصے سے معاملے پر کسی بیرونی کردار کو مسترد کرتا آرہا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے پہلے ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو اپنی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج نے وادی میں کرفیو لگا کر مکمل طور پر اسے جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ جس میں مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کو بیان اور فاشسٹ مودی کا اصل چہرہ بے نقاب کریں گے۔ مشن کشمیر کے حوالے سے عمران خان اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers