قومی

ایل او سی کی خلاف ورزی پر بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

بھارت لائن آف کنٹرول پر کنٹرول میں رہے، پاکستان کی وارننگ۔ سرحدی جارحیت پر بھارتی ناظم الامور گورو آہلووالیا کی دفتر خارجہ طلبی۔ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ سول آبادی کو نشانہ بنانا بینالاقوامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان اور ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرگورو آہلووالیا کو آج دفتر خارجہ طلب کیا۔

ڈاکٹر فیصل کی جانب سے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سیز فائر معاہدے کی پابندی کرے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی فوج نے 28 اور 29 ستمبر کو سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس کی وجہ سے نکیال اور رکھ چکری سیکٹرز میں 60 سالہ خاتون سلامت بی بی اور 13 سالہ ذیشان شہید ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج مسلسل لائن آف کنٹرول پر سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سول آبادی کو نشانہ بنانا بینالاقوامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی فوج کے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ان اقدامات سے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع لوگوں کو جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔

بھارتی حکام اس کی تحقیقات کرائے اور پاکستان کو اس سے آگاہ کرے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز بھارتی فوج نے ایل او سی کے نکیال اور رکھ چکری سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

اس سلسلے میں 60 سالہ خاتون سلامت بی بی اور 13 سالہ ذیشان شہید جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ میں اب تک کئی شہری اور فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers